السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، ایک 22 سالہ مطلقہ خاتون تقریباً 4 ہفتوں کی حاملہ ہے۔ اسے بائی پولر ڈس آرڈر (Bipolar Disorder) کی تشخیص ہو چکی ہے، وہ نفسیاتی علاج کے تحت ہے اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوائیں استعمال کر رہی ہے۔ اس کے ڈاکٹروں کو تشویش ہے کہ حمل جاری رکھنے سے اس کی ذہنی صحت شدید متاثر ہو سکتی ہے، اور بعض ادویات حمل کے دوران خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔براہِ کرم رہنمائی فرمائیں:کیا حمل کے اس ابتدائی مرحلے (4 ہفتے) میں اسے ختم کرنا اسلام میں جائز ہے؟کیا شدید، طبی طور پر ثابت شدہ ذہنی بیماری شرعاً ایک معتبر عذر شمار ہوتی ہے؟کیا اس فیصلے میں ایک مستند ماہرِ نفسیات (Psychiatrist) کی رائے کافی ہے؟ کیا اس کی حالیہ طلاق اس حکم پر کسی طرح اثر انداز ہوتی ہے؟ براہِ کرم قرآن، سنت اور معتبر اہلِ علم کی آراء کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہوکہ بائی پولر ڈس آرڈر کی تشخیص یا محض ادویات کے ممکنہ مضر اثرات اسقاط حمل کے لیے کافی نہیں ،لہذاصورت مسئولہ مىں اگرواقعةً حمل كى وجہ سے ماں كى صحت كو سخت نقصان كا انديشہ ہو اور مستند و ماہر نفسیات اور متعلقہ ماہرِ امراضِ حمل مسلمان ڈاكٹرزبھی اس بات كى تصديق كررہے ہوں تو ايسى صورت مىں چار ماه سے پہلے پہلے اس حمل كو ضائع كرنے كى شرعاًگنجائش ہے، جبكہ مذكوره خاتون اگر مطلقہ ہو اور عدت مىں ہو تو چونکہ بچے کے اعضاء کی بناوٹ عموماً چار ماہ کے بعد ظاہر ہوتی ہے، اس لیے چار ماہ مکمل ہونے سے پہلے ساقط ہونے والے حمل سے عدت ختم نہیں ہوگی، بلکہ مطلقہ عورت کواسقاط حمل کے بعد تین ماہواریاں پوری کرنالازم ہوگی۔
كما في الدر المختار: ويكره أن تسعى لإسقاط حملها (إلى قوله) وجاز لعذر حيث لا يتصور.اهـ
وفي رد المحتار: (قوله ويكره إلخ) أي مطلقا قبل التصور وبعده على ما اختاره في الخانية كما قدمناه قبيل الاستبراء وقال إلا أنها لا تأثم إثم القتل (قوله وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل وانقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية (قوله حيث لا يتصور) قيد لقوله: وجاز لعذر والتصور كما في القنية أن يظهر له شعر أو أصبع أو رجل أو نحو ذلك.اهـ (كتاب الحظر والإباحة، ج: 6، ص: 429، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الهندية: وإن أسقطت بعد ما استبان خلقه وجبت الغرة كذا في فتاوى قاضي خان. العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز (إلى قوله) امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما أربعون نطفة وأربعون علقة وأربعون مضغة كذا في خزانة المفتين.اهـ (الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات، ج: 5، ص: 356، ط: مكتبة ماجدية)
وفي الدر المختار أيضا: واصطلاحا (تربص يلزم المرأة) أو ولي الصغيرة (عند زوال النكاح) وأنواعها حيض، وأشهر، ووضع حمل كما أفاده بقوله (وهي في) حق (حرة) (إلى قوله) (تحيض لطلاق) ولو رجعيا (إلى قوله) (ثلاث حيض كوامل) (إلى قوله) (و) في حق (الحامل) مطلقا (إلى قوله) (وضع) جميع (حملها).إلخ
وفي رد المحتار: (قوله: وضع حملها) أي بلا تقدير بمدة سواء ولدت بعد الطلاق، أو الموت بيوم، أو أقل جوهرة، والمراد به الحمل الذي استبان بعض خلقه، أو كله، فإن لم يستبن بعضه لم تنقض العدة لأن الحمل اسم لنطفة متغيرة، فإذا كان مضغة، أو علقة لم تتغير، فلا يعرف كونها متغيرة بيقين إلا باستبانة بعض الخلق بحر عن المحيط (إلى قوله) وإذا أسقطت سقطا إن استبان بعض خلقه انقضت به العدة لأنه ولد وإلا فلا.اهـ (باب العدة، ج: 3، ص: 503-512، ط: إيج إيم سعيد)