عنوان: نامحرم سے تعلق ختم کرنے اور دل آزاری کا شرعی حکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم مفتی صاحب! میرا ایک اہم شرعی مسئلہ ہے، براہِ کرم رہنمائی فرما دیں۔تقریباً ایک سال پہلے میری ایک نامحرم لڑکی سے پڑھائی کے کسی معاملے میں بات چیت شروع ہوئی۔ ابتدا میں گفتگو صرف تعلیمی نوعیت کی تھی، لیکن آہستہ آہستہ وہ دوستی میں اور پھر جذباتی تعلق میں بدل گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہماری بات چیت بعض اوقات ایسی سمت اختیار کر لیتی تھی جو شرعاً درست نہیں تھی اور گناہ کے قریب لے جانے والی تھی۔مجھے بار بار احساس ہوتا رہا کہ یہ تعلق اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بن سکتا ہے اور آئندہ کسی بڑے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ بھی ہے۔ اسی خوف سے میں نے کئی مرتبہ اسے سمجھایا کہ ہمیں یہ تعلق ختم کر دینا چاہیے۔ میں نے بیچ میں کئی دفعہ رابطہ بھی منقطع کیا، لیکن وہ دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ بالآخر میں نے مکمل طور پر اس سے تعلق ختم کر دیا، تاکہ ہم دونوں گناہ سے بچ سکیں۔اب مسئلہ یہ ہے کہ اس علیحدگی کی وجہ سے اسے شدید صدمہ ہوا، وہ بہت افسردہ ہوئی اور اس کا دل ٹوٹ گیا۔ میرا مقصد ہرگز اسے تکلیف دینا نہیں تھا، بلکہ صرف اللہ کے خوف سے یہ قدم اٹھایا۔براہِ کرم درج ذیل سوالات میں رہنمائی فرما دیں:اگر گناہ کے اندیشہ سے تعلق مکمل طور پر ختم کر دیا جائے تو کیا یہ درست عمل ہے؟اس علیحدگی کی وجہ سے اس کا دل ٹوٹا، تو کیا اس پر مجھے گناہ ہوگا؟ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ مجھ سے اس تعلق کے دوران گناہ سرزد ہوئے ہیں، تو سچی اور کامل توبہ کا طریقہ کیا ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی فرما دیں، تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔
صورت مسئولہ میں سائل کا عمل شرعا درست ہے، وه اس ناجائز تعلق کی وجہ سے گنہگار ہو رہا تھا، جس کا ختم کرنا اس پر واجب تھا، اور اىسى صورت میں مذکور لڑکی کو جو صدمہ ہوا ہے، اس کی وجہ سے سائل کو کوئی گناہ نہ ہوگا، نیز ابھی تک سائل اور مذکور لڑکی کے درمیان جو ناجائز تعلقات رہے، اس پر سائل کے ذمہ بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ ایسی حرکت نہ کرنے کا عزم شرعاً لازم ہے۔
كما قال الله تعالى: ولمن خاف مقام ربه جنتان. (الرحمن: 46)
وفي صحيح البخاري: عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: لم أر شيئا أشبه باللمم من قول أبي هريرة.وحدثني محمود: أخبرنا عبد الرزاق: أخبرنا معمر، عن ابن طاوس، عن أبيه، عن ابن عباس قال: ما رأيت شيئا أشبه باللمم مما قال أبو هريرة،عن النبي صلى الله عليه وسلم: (إن الله كتب على ابن آدم حظه من الزنا، أدرك ذلك لا محالة، فزنا العين النظر، وزنا اللسان المنطق، والنفس تتمنى وتشتهي، والفرج يصدق ذلك كله أو يكذبه.اهـ (باب زنا الجوارح درن الفرج، ج: 5، ص: 2304، الرقم: 5889، ط: دار ابن كثير، دار اليمامة) - دمشق)
وفي سنن الترمذي: عن ابن عمر، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وكره ما لم يؤمر بمعصية، فإن أمر بمعصية، فلا سمع عليه ولا طاعة.اهـ (ج: 3، ص: 503، الرقم: 1803، ط: دار الرسالة العالمية)
وفي رياض الصالحين: قال العلماء: التوبة واجبة من كل ذنب، فإن كانت المعصية بين العبد وبين الله تعالى لا تتعلق بحق آدمي، فلها ثلاثة شروط: أحدها: أن يقلع عن المعصية.والثاني: أن يندم على فعلها.والثالث: أن يعزم أن لا يعود إليها أبدا. فإن فقد أحد الثلاثة لم تصح توبته.اهـ (باب التوبة، ص: 33، ط: مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان)
وفي بدائع الصنائع: ولأن الاستمتاع بالدواعي وسيلة إلى القربان والوسيلة إلى الحرام حرام أصله الخلوة وهذا أولى.اهـ (كتاب الاستحسان، ج: 5، ص: 120، ط: إيج إيم سعيد)