گناہ و ناجائز

غیر متوازن داڑھی کو شیو کرواکر سیٹ کرنا

فتوی نمبر :
92908
| تاریخ :
2026-03-04
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

غیر متوازن داڑھی کو شیو کرواکر سیٹ کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔میں آپ سے داڑھی کے متعلق شرعی رہنمائی چاہتا ہوں۔میری داڑھی ابھی مکمل اور یکساں طور پر نہیں آئی ہے۔ کچھ جگہیں ہلکی ہیں اور کچھ جگہیں زیادہ گھنی ہیں، یعنی داڑھی غیر متوازن اور نامکمل نظر آ رہی ہے۔ لوگوں نے مشورہ دیا ہے کہ اسے دو تین مرتبہ بلیڈ سے شیو کروا دوں، لیکن میں نہیں جانتا کہ یہ صحیح ہے یا نہیں۔ اس معاملے میں میری کچھ الجھنیں ہیں ، کیا داڑھی کو بلیڈ یا شیو کے ذریعے ختم کرنا شرعی طور پر جائز ہے؟ اگر داڑھی جیسے ہی بڑھ رہی ہے، تو اسے قدرتی طور پر رہنے دینا بہتر ہے یا کاٹنا/شیو کرنا گناہ ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا درست عمل کیا ہے؟میری آپ سے گزارش ہے کہ اس سوال کا تفصیلی جواب دیں، قرآن کی آیات، مستند احادیث اور منطقی دلیل کے ساتھ، تاکہ میں درست طریقے سے عمل کر سکوں۔ جزاک اللہ خیراً!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ایک مشت کے برابر داڑھی رکھنا واجب ہے اور اس سے کم کتروانا یا مونڈھنا ناجائز ہے۔ لہذا سائل کی داڑھی کے جس حصے کے بال ایک مشت سے زائد ہیں ان زائد بالوں کوتو کاٹنا جائز ہے اس کے علاوہ نہیں۔ چنانچہ اگر سائل صرف زائد بالوں کو لیتا رہے گا تو ایک دن چھوٹے بال بھی ایک مشت کی حد تک پہنچ جائیں گے جس سے سائل کی داڑھی متوازن ہو جائے گی۔ اس لئے محض ظاہری بناوٹ کی خاطر ایک غیر شرعی اور ناجائز امر کے ارتکاب سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی السنن الترمذی: عن عمرو بن شعيب، عن أبيه عن جده: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يأخذ ‌من ‌لحيته من عرضها (باب ما جاء فی الاخذ من اللحیۃ ج:5، ص:57، ط: دارالرسالۃ العالمیۃ)۔
وفی الفقہ الاسلامی: ‌والمسنون ‌في ‌اللحية هو القبضة، وأما الأخذ منها دون ذلك أو أخذها كلها فلا يجوز. وقال الشافعية بكراهية حلقها، فقد ذكر النووي أن العلماء ذكروا عشر خصال مكروهة في اللحية، بعضها أشد من بعض، منها حلقها إلا إذا نبت للمرأة لحية، فيستحب لها حلقها اھ (باب فصال الفطرۃ العشر ج: 4، ص:2609 ط: دارالفکر سوریۃ)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: " وإعفاء اللحية ". قال التوربشتي: أي توفيرها يقال: عفا النبت إذا كثر وأعفوته أنا وأعفيته لغتان، وقص اللحية من صنع الأعاجم وهو اليوم شعار كثير من المشركين كالإفرنج والهنود، ومن لا خلاق له في الدين من الطائفة القلندرية. وقال ابن الملك: وأما الأخذ من ‌أطراف ‌اللحية طولها أو عرضها للتناسب فحسن، لكن المختار أن لا يأخذ منها شيئا اھ (باب السواک ج:1 ص:397 ط: دارالفکر بیروت)۔
وفی الدر المختار: وأخذ ‌أطراف ‌اللحية والسنة فيها القبضة. وفيه: قطعت شعر رأسها أثمت ولعنت زاد في البزازية وإن بإذن الزوج لأنه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق، ولذا يحرم على الرجل قطع لحيته، والمعنى المؤثر التشبه بالرجال اهـ (فصل فی البیع ج:6 ص:307، ط: دارالفکر بیروت)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92908کی تصدیق کریں
0     32
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات