میں ایک ڈاکٹر ہوں، سرکاری ہسپتال کے بعد شام کو پرائیویٹ کلینک بھی کرتا ہوں ۔اکثر یہ مسئلہ پیش آتا ہے، کہ صبح سرکاری ہسپتال جاتے وقت مریض کلینک میں آ جاتے ہیں، اور وہی چیک اپ کا کہتے ہیں، کیونکہ سرکاری ہسپتال 20 کلومیٹر دور ہے ، کیا ان کو چیک کرنا میرے لئے جائز ہے؟ میں نے پرائیوٹ کلینک سرکاری اجازت NOCسے کھولا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل چونکہ سرکاری ہسپتال میں مخصوص اور مقرَّرہ اوقات کا پابند ہے اس لئے اس پر لازم ہے کہ وہ مقرَّرہ وقت پر ہسپتال پہنچنے کا اہتمام کرے۔ چنانچہ ہسپتال کے مقرَّرہ اوقات، کلینک میں مریض آنے کی وجہ سے کلینک میں صرف کرنا جائز نہیں۔ البتہ اگر مجاز افسرانِ بالا سے ایک آدھ مرتبہ کے لئے اس کی اجازت لی جائے تو بقدرِ اجازت ہسپتال کے اوقات کلینک میں صرف کرنا شرعاً بھی جائز ہوگا۔ تاہم اس کی مستقل عادت بنانا درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی تفسیر القرطبی تحت قولہ تعالی ”يا أيها الذين آمنوا أوفوا بالعقود“ الآیۃ: فأمر الله سبحانه بالوفاء بالعقود، قال الحسن: يعني بذلك عقود الدين وهي ما عقده المرء على نفسه، من بيع وشراء وإجارة وكراء ومناكحة وطلاق ومزارعة ومصالحة وتمليك وتخيير وعتق وتدبير وغير ذلك من الأمور، ما كان ذلك غير خارج عن الشريعة الخ (ج:6 ص:31 ط: دار الکتب المصریۃ۔القاھرۃ)۔
و فی رد المحتار تحت (قولہ:وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى. وفي غريب الرواية قال أبو علي الدقاق: لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة، ويسقط من الأجر بقدر اشتغاله إن كان بعيدا، وإن قريبا لم يحط شيء فإن كان بعيدا واشتغل قدر ربع النهار يحط عنه ربع الأجرة اھ(كتاب الإجارة، مبحث الأجير الخاص ج:6 ص:70 ط: سعيد۔کراتشی)۔
و فی مجمع الانھر: (و) ثاني النوعين (الأجير الخاص) وهو (من يعمل لواحد) قيد صاحب الدرر بقوله: عملا مؤقتا بالتخصيص، وقال: فوائد القيود عرفت مما سبق (ويسمى أجير وحد) أيضا (ويستحق) الأجير الخاص (الأجر بتسليم نفسه) أي الأجر (مدته) أي العقد سواء عمل أو لم يعمل مع التمكن بالإجماع اھ (
باب الإجارة الفاسدة ج:2 ص:390 ط:دار إحياء التراث العربي)۔