السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ میری شادی کو سات سال ہو گئے ہیں اور میری دو بیٹیاں ہیں میری ساس سے میری کوئی خاص بنتی نہیں ہے ہاں وہ اپنا کام کرتی ہیں اور میں اپنے کام کرتی ہوں بہرحال کبھی کبھی وہ بہت عجیب و غریب باتیں کرتی ہیں اور تانے بھی دیتی ہیں ا وہ بتانے سے ذرا بالاتر ہے اب میرا دل اس طرح سے ہو گیا ہے کہ میرا دل ان کی طرف مانوس نہیں ہوتا اور نہ کسی قسم کی ہمدردی رکھتا ہے اور میں ہر وقت اللہ سے دعا مانگتی ہوں کہ مجھے ان کے ساتھ نہیں رہنا تو اس میں مجھے بتائیں کہ میں کیا درست ہوں یا نہیں
واضح ہو گھریلو زندگی میں اس طرح کی چھوٹی موٹی باتوں کا آنا ایک فطری امر ہےلیکن اس کو اس قدر تقویت دیکر ذہن میں راسخ کرنا کہ اس کی وجہ سے ایک دوسرے کیلئے ہمدردی کا جذبہ ہی ختم ہوجائے مناسب نہیں،لہذا سائلہ کو چاہئے کہ وہ اپنی ساس کو والدہ کا درجہ دیکر اس رویہ کو نظر انداز کرنے کی کوشش کریں جو ان کے حق میں بہر حال موجب اجر ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت سے عافیت اور پر سکون زندگی کی دعا بھی کرے امید ہے کہ وقت کے ساتھ سب بہتر ہوجائیگا۔