السلام علیکم مفتی صاحب ! ایک مسئلہ درپیش ہے ، ایک فیملی ہے، عمرہ پرگئی ہے، اس کے شوہر کی موت ہو گئی ہے ، وہ مدینہ میں ہے ،ابھی عمرہ بھی نہیں کیا ، پوچھنا یہ تھا کہ اب اس کی زوجہ وہ عمرہ کرے یا پاکستان آ جائے عدت کے لیے ،مہربانی فرماکر شرعی حکم بیان فرمائیں ۔
صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ بیوہ خاتون کے لئے مدینہ منورہ میں ہی عدت گزارنا ممکن ہو تو وہیں عدت گزارے اور دوران عدت ہوٹل وغیرہ سے بلا ضرورت شدیدہ نہ نکلے ، ورنہ عمرہ کا ارادہ ترک کرتے ہوئے فوراً پاکستان لوٹ کر شوہر کے گھر پر عدت مکمل کرے۔
کما فی الدر المختار: (أبانها، أو مات عنها في سفر) ولو في مصر (وليس بينها) وبين مصرها مدة سفر رجعت ولو بين مصرها مدته وبين مقصدها أقل مضت (وإن كانت تلك) أي مدة السفر (من كل جانب) منهما ولا يعتبر ما في ميمنة وميسرة، فإن كانت في مفازة (خيرت) بين رجوع ومضي (معها ولي، أو لا في الصورتين، والعود أحمد) لتعتد في منزل الزوج (و) لكن (إن مرت) بما يصلح للإقامة كما في البحر وغيره. زاد في النهر: وبينه وبين مقصدها سفر (أو كانت في مصر) أو قرية تصلح للإقامة (تعتد ثمة) إن لم تجد محرما اتفاقا، وكذا إن وجدت عند الإمام (ثم تخرج بمحرم) إن كان اھ
و فی الشامیۃ: (قوله: تصلح للإقامة) بأن تأمن فيها على نفسها ومالها وتجد ما تحتاجه. (3/539،538)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0