سوال یہ ہے کہ Quotex کمپنی ہے، اس میں ٹریڈنگ ہوتی ہے، تو لوگ اس میں پیسے انویسٹ کر کے اندازہ لگا کر ٹریڈنگ کرتے ہیں۔ جیسے مارکیٹ کا ریٹ چل رہا ہوتا ہے، اندازہ یہ ہوتا ہے کہ ابھی مارکیٹ اوپر جائے گی تو میں Up کی ٹریڈ کرتا ہوں، اور اگر نیچے جائے گی تو Down لگا دیتا ہوں۔ ایک اندازہ ہوتا ہے، اگر ایسا ہو جاتا ہے تو آپ کو منافع ہوتا ہے، اور اگر نہیں ہوتا تو جتنی آپ نے انویسٹ کی ہوتی ہے وہ ساری ضائع ہو جاتی ہے۔ تو اس کے بارے میں بتائیں۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکور کمپنی میں ٹریڈنگ کرنے سے عام طور پر خرید و فروخت مقصود نہیں ہوتی، بلکہ اُس میں ایک مقررہ وقت کے اندر مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا صحیح یا غلط اندازہ لگایا جاتا ہے، اندازہ صحیح ہونے کی صورت میں نفع اور غلط ہونے کی صورت میں پوری رقم ضائع ہو جاتی ہے، شرعاً یہ قمار (جوئے) ہی کی ایک صورت ہے، اس لیے ایسی ٹریڈنگ سے احتراز لازم ہے۔
قال الله تعالى : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ(سورة المائدة،الأية: ٩٠)
و في صحيح مسلم : عن عمرو بن دينار عن طاوس عن ابن عباس أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال « من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يستوفيه ». قال ابن عباس وأحسب كل شىء مثله. (كتاب البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض، ص: ٥٣٨، ط: مؤسسةالرسالة)
و في الدر المختار : ( إن شرط المال ) في المسابقة (من جانب واحد وحرم لو شرط ) فيها ( من الجانبين ) لأنه يصير قمارا ( إلا إذا أدخلا ثالثا ) محللا ( بينهما ) ( كتاب الحظر والإباحة،فصل في البيع،ج: ٦، ص: ٤٠٣، ط: سعيد)
و في فتاوى الهندية : السباق يجوز (إلى قولى) وإنما يجوز ذلك إن كان البدل معلوما في جانب واحد بأن قال: إن سبقتني فلك كذا، وإن سبقتك لا شيء لي عليك أو على القلب، أما إذا كان البدل من الجانبين فهو قمار حرام إلا إذا أدخلا محللا بينهماالخ (الباب السادس في المسابقة، ج: ٥، ص: ٣٢٤، ط: ماجدية)
و في رد المحتار : تحت ( قوله : و شرطه أهلية المتعاقدين ) و شرط المعقود عليه ستة : كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه ، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه ، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم كالحمل واللبن في الضرع و الثمر قبل ظهوره (مطلب شرائط البيع أنواع أربعة، ج: ٤، ص: ٥٠٥، ط :سعيد)
وفيه ايضاََ:تحت(قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة، وفي الآخر الانتقاص فقط فلا تكون مقامرة لأنها مفاعلة منه زيلعي اھ(فصل في البيع، ج: ٦، ص: ٤٠٣، ط: سعيد)