میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے والدین میری پرائیویسی (ذاتی زندگی) میں مداخلت کرتے ہیں اور میری زندگی کے تمام معاملات پر اپنا کنٹرول چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جب میں اپنا موبائل فون استعمال کرتا ہوں تو وہ میرے پیچھے سے دروازہ کھول دیتے ہیں، آس پاس گھوم کر میرے فون میں جھانکتے ہیں، میری چیزوں کی تلاشی لیتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ میں اپنی زندگی ان کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق گزاروں۔ مثال کے طور پر، وہ رات کو تقریباً 11 بجے سو جاتے ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ میں بھی اسی وقت سو جاؤں، حالانکہ میں آفس میں کام کرتا ہوں اور جلدی سونا نہیں چاہتا۔ اگر میں رات کو اپنے دوستوں کے ساتھ باہر جانا چاہوں تو وہ مجھے اجازت نہیں دیتے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی دوست مجھے فون کرے تو وہ میری باتوں پر کان لگا کر رکھتے ہیں، یا اگر کوئی دوست مجھ سے ملنے آئے تو وہ اسے دیکھنا اور اس کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ ان حرکتوں کی وجہ سے میراکوئی دوست نہیں ہے۔ اب میرا کہیں بھی جانے کا دل نہیں کرتا۔ اور اگر ان کی کوئی تقریب ہو تو وہ چاہتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ جاؤں، اور انکار کرنے پر وہ مجھے ڈانٹتے ہیں اور سخت الفاظ کہتے ہیں۔ میں اللہ عزوجل اور اس کے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کے بعد ان کے اعلیٰ مرتبے اور مقام کو جانتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ مجھے ان کا احترام اور فرمانبرداری کرنی چاہیے۔ لیکن میں اپنی مرضی سے آزادانہ جینا بھی چاہتا ہوں۔میں واقعی بہت مشکور ہوں گا اگر آپ قرآنِ مجید کی آیات اور احادیث کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔ اگر ممکن ہو تو براہِ کرم اردو میں میرے ای میل ایڈریس پر جواب دیں۔جزاک اللہ
واضح ہو کہ اللہ جل جلالہ نے کلامِ پاک میں اور نبی کریم ﷺ نے متعدد احادیثِ مبارکہ میں والدین کو اولاد کی اصلاح کے سلسلے میں بڑی تاکید فرمائی ہے؛ چنانچہ اگر سائل کے والدین سائل کی نشست و برخاست اور چال چلن کی مناسب نگرانی کریں اور برے دوستوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے سائل کو منع کریں، اس پر اسے تنبیہ کریں تو یہ سائل کی پرائیویسی میں مداخلت نہیں بلکہ ان کی شرعی ذمہ داری ہے اور شفقت کا تقاضا ہے۔ لہٰذا سائل کا والدین کی نگرانی اور مناسب تنبیہ کو برا سمجھنے کے بجائے اپنی سعادت مندی اور خوش بختی کا باعث سمجھ کر کھلے دل سے قبول کرنا چاہیے؛ تاہم سائل کے والدین کو چاہیے کہ سائل کیساتھ بھی بہت زیادہ سختی سے پیش آنے کے بجائے حکمت، بصیرت اور پیار و شفقت کے ساتھ پیش آنے کی کوشش کریں اور جس موقع پر جو اندازِ تربیت اپنانے کی ضرورت ہو وہ اختیار کریں تاکہ وہ تربیت کو تکلیف اور اذیت کا باعث نہ سمجھے، اور صحیح تربیت کے لیے بہتر ہے کہ ”اسلام اور تربیتِ اولاد“ (مؤلفہ: مولانا حبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ) جیسی کتابوں سے استفادہ کیا جائے۔
کما قال اللہ تعالیٰ:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ۔(سورت الحجرات،آیت نمبر:12)
و فی تفسير البيان لأحكام القرآن:ثم فصل الإحسان إليهما قولا وفعلا: أما القول، فنهى الله سبحانه الولد عن أن يقول لهما قولا قبيحا، وأمره أن يقول لهما قولا كريما، فقال: {فلا تقل لهما أف ولا تنهرهما وقل لهما قولا كريما (٢٣)} [الإسراء: ٢٣].وأما الفعل، فأمره أن يخفض لهما جناح الذل بسبب الرحمة لهما،فقال: {وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ} [الإسراء: ٢٤]، وذلكَ غايةُ ما ينتهي إليهِ الخضوعُ.اھ(باب من أحكام البر والصلة ،ج:3،ص؛408،ط:دار النوادر)
و فی صحیح بخاری:عن أبي هريرة،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (إياكم والظن، فإن الظن أكذب الحديث، ولا تحسسوا، ولا تجسسوا، ولا تحاسدوا، ولا تدابروا، ولا تباغضوا، وكونوا عباد الله إخوانا).اھ(كتاب الأدب، باب:ما ينهى عن التحاسد والتدابر، ج:8، ص:19، رقم:6064، ط:السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية)