گناہ و ناجائز

دوران درس تیار کئے ہوئے نوٹس وغیرہ کس کی ملکیت شمار ہوں گے؟

فتوی نمبر :
93220
| تاریخ :
2026-03-13
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

دوران درس تیار کئے ہوئے نوٹس وغیرہ کس کی ملکیت شمار ہوں گے؟

مفتی صاحب سے سوال عرض ہے کہ میں ایک کوچنگ سینٹر کا ٹیچر ہوں جہاں ہر سال کے لیے علیحدہ کانٹریکٹ دیا جاتا ہے جو کہ سیشن کے اختتام پر ختم ہو جاتا ہے جس کو جاری رکھنے کے لیے دوبارہ تجدید کی جاتی ہے۔
کانٹریکٹ میں ہمیں خاص وقت کے لیے، خاص کلاسز کو پڑھانا ہوتا ہے، جس کے لیے ہم گھر سے اپنے ذاتی کمپیوٹر اور بجلی پر ادارے کو ماہانہ ٹیسٹ پیپر ، امتحانی ٹیسٹ پیپر ، کلاس میں پڑھانے کے لیے بنائی جانے والی پاور پوائنٹ پریزنٹیشن اور بچوں کو امتحان کی تیاری کے لیے نوٹس فراہم کرتےہیں جو کہ خاص و خاص گروپ اور خاص وقت کےلیے ہوتی ہیں،
سوال یہ ہے کہ کنٹریکٹ ختم ہو جانے کے بعد اس کی ملکیت کس کے پاس رہے گی ادارہ کہتا ہے کہ یہ تمام تر چیزیں اب اس کی ملکیت ہیں جس کو وہ اگے بھی استعمال کرے گا جبکہ استاد کا کہنا یہ ہے کہ میرا کانٹریکٹ ایک خاص وقت کے لیے خاص کلاسز کے لیے تھا جو کہ ختم ہو چکا ہے تو اپ میرے یہ تمام چیزیں اگلے سال نئی کلاسز اور نئے بچوں کو استعمال نہیں کر سکتے اس سلسلے میں شرعی رہنمائی فراہم کر دیجئے کہ کس کا موقف درست ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر معاہدے یا ادارے کے معروف اور متعارف ضابطوں کے مطابق یہ طے تھا کہ ملازمت کے دوران تیار کیے جانے والے نوٹس، ٹیسٹ پیپرز، پاور پوائنٹ پریزنٹیشنز اور دیگر تدریسی مواد کے حقوق اور ملکیت ادارے کو حاصل ہوں گے، یا عرفاً ایسے مواد کو ادارے کی ملکیت سمجھا جاتا ہے، تو ملازمت کے خاتمے کے بعد بھی ادارہ ان مواد کو استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم اگر اس بارے میں کوئی شرط موجود نہ تھی اور نہ ہی ایسا کوئی معروف عرف پایا جاتا تھا، بلکہ مذکورہ مواد استاد نے اپنی ذاتی صلاحیت، ذاتی کمپیوٹر، بجلی اور محنت سے تیار کیا تھا، تو اصل حق استاد کا ہوگا، اور ادارہ اس کے مستقل اور آئندہ استعمال کا مجاز نہیں ہوگا، الا یہ کہ فریقین کے درمیان اس پر باہمی رضامندی سے کوئی الگ معاہدہ طے پا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في سنن أبي داود للسجستاني: 3596 - عن أبى هريرة قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « الصلح جائز بين المسلمين ». زاد أحمد « إلا صلحا أحل حراما أو حرم حلالا ». وزاد سليمان بن داود وقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « المسلمون على شروطهم ». (3/ 332)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93220کی تصدیق کریں
0     4
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات