یہ تو میں جانتی ہوں کہ ڈیٹنگ غلط ہے، لیکن میرا ایک بوائے فرینڈ ہے اور ہمارے تعلق کو چار ماہ ہو چکے ہیں۔ میں اس سے بہت محبت کرتی ہوں، عام سی محبت نہیں بلکہ بہت گہری محبت ہے۔ ہمارے درمیان کوئی جنسی تعلق یا اس قسم کی کوئی چیز نہیں ہے، کیونکہ ہمارا مقصد صرف شادی ہے۔ لیکن میں اس سے تعلق ختم (بریک اپ) بھی نہیں کرنا چاہتی، اور نہ ہی میں اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنا چاہتی ہوں۔ تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟
سائلہ کا مذکور لڑکے کے ساتھ اگرچہ جنسی تعلق نہیں ہے،لیکن نکاح سے قبل کسی غیر مرد کے ساتھ چونکہ دوستانہ تعلق قائم رکھنے کی بھی شرعا اجازت نہیں،اس لئے سائلہ کامذکو ر لڑکے کے ساتھ محبت کرکے دوستانہ تعلق قائم کرنااور نکاح سے قبل ایک دوسرے سے بے تکلفی اختیار کرنا شرعا جائز نہیں جس سے سائلہ کو اجتناب لازم ہے،البتہ سائلہ کا اگر مذکور لڑکے کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ ہو تو سائلہ کو چاہئے کہ اپنے بڑوں اور اولیاء کو اعتماد میں لیکر اس لڑکے سے نکاح کی ترتیب بنائے تاکہ ممکنہ گناہ سے بچا جاسکے لیکن اگر اولیاء اس نکاح پر آمادہ نہ ہوں،تو ان کی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کی ترتیب بنائے۔
کما فی المرقاۃشرح المشکاۃ:
«وعن أم سلمة أنها كانت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وميمونة إذ أقبل ابن أم مكتوم فدخل عليه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " احتجبا منه، فقلت: يا رسول الله أليس هو أعمى لا يبصرنا! قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أفعمياوان أنتما ألستما تبصرانه» . رواه أحمد، والترمذي، وأبو داود.(ج:5،ص2055،رقم الحدیث:3116،ط:دارالفکر،بیروت لبنان)
وفیہ ایضاً تحت قول النبی ﷺعن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا ينظر الرجل إلى عورة الرجل، ولا المرأة إلى عورة المرأة، ولا يفضي الرجل إلى الرجل في ثوب واحد، ولا تفضي المرأة إلى المرأة في ثوب واحد» . رواه مسلم.
«وأما المرأة في حق الرجل الأجنبي فجميع بدنها عورة إلا وجهها وكفيها عند الحاجة كسماع إقرار أو خطبة كما مر قال النووي رحمه الله: " نظر الرجل إلى المرأة الأجنبية حرام من كل شيء من بدنها وكذلك نظر المرأة إلى الرجل، سواء كان بشهوة أو بغيرها وكذلك يحرم النظر إلى الأمرد إذا كان حسن الصورة أمن من الفتنة أم لا، هذا هو المذهب الصحيح المختار فإنه يشتهى وصورته في الجمال كصورة المرأة بل ربما كان كثير منهم عند المحققين نص عليه الشافعي وحذاق أصحابه وذلك ; لأنه في معنى المرأة أحسن صورة من كثير من النساء بل هم بالتحريم أولى لما يتمكن في حقهم من طرق الشر ما لا يتمكن من مثله في حق المرأة اه. ومذهبنا ومذهب الجمهور أنه إنما يحرم النظر إذا كان على وجه الشهوة والذي ذكره إنما هو من باب الاحتياط في الدين فإنه من رعى حول الحمى يوشك أن يقع فيه»(ج:5،ص:2051،ط:دارالفکر،بیروت،لبنان)