گناہ و ناجائز

پکی ہوئی مچھلی کو کچی مچھلی کے وزن کے حساب سے فروخت کا حکم

فتوی نمبر :
93428
| تاریخ :
2026-03-22
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

پکی ہوئی مچھلی کو کچی مچھلی کے وزن کے حساب سے فروخت کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء دین حق متین ومفتیان شرع دین مسئلہ ذیل کے متعلق:
میں مچھلی کا کاروبار کرتا ہوں کچی مچھلی بھی بیچتا ہو ں اورپکی پکائی ہوئی بھی، کچی کا تول تو پورا ہوتا ہے مگر پہلے ہم کچی مچھلی تول کر پکاتے تھے اب چونکہ رش ہوتا ہے جس کی بناہ پر بار بار تولنا اور پکانا مشکل ہے
موجودہ صورتحال:
ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ کچی مچھلی تول کر جب پکایا جاتا ہے تو اسکا تقریبا 250 یا اسکے لگ بھگ وزن گھٹ جاتا ہے چونکہ گاہک کو بھی جلدی ہوتی ہے تو وہ ایک کلو مچھلی مانگتا ہے ہم 720/760 گرام دے دیتے ہیں ۔کیا شریعت میں ایسے معاملے کی کوئی نظیر یا گنجائش ہے۔
نوٹ :جب کچی تول دے تو پکانے کے بعد وہی 730 تک وزن ہوتا ہے اور اگر کوئی وزن کے بارے پوچھے تو ہم اسکو ساری بات بتاتے ہیں۔
کیا اس طرح کی خرید وفروخت درست ہوگی ۔
تفصیلات سے آگاہ کیجئے گا
ان شاءاللہ عند اللہ ماجور ہونگے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق اگر کوئی گاہک سائل سے کچی مچھلیاں وزن کی شرط کے ساتھ خریدے(مثلاً ایک دو کلو کہہ کر خریدے )تو سائل کے لئے گاہک کے کہنے کے مطابق پورا وزن کرکے مچھلیاں دینا لازم ہوگا،اس صورت میں وزن میں کمی بیشی شرعا جائز نہیں،پھر اگر کچی مچھلیوں کو صاف کرنے اور تیل میں پکانے کی وجہ سے اس کے وزن میں کمی آجائے تو شرعا اس میں کوئی حرج نہیں،لیکن اگر کوئی گاہک سائل سے کچی مچھلیاں خریدنے کے بجائے پکی پکائی مچھلیاں خریدنا چاہے اور باقاعدہ وزن کی صراحت اور شرط کے ساتھ مچھلیاں خریدے تو اس صورت میں بھی گاہک کی ڈیمانڈ اور طلب کے مطابق وزن پورا کرکے دینا لازم اور ضروری ہوگا،گاہک کی طرف سے پکی پکائی ایک کلو مچھلی طلب کرنے پر اسے 250 گرام کم کرکے پونے ایک کلو وزن کے حساب سے مچھلی دینا جائز نہیں،جس سے اجتناب لازم ہے،البتہ اگر گاہک کے سامنے اس کی وضاحت کی جائے یا دکان میں کسی کاغذ وغیرہ پر کوئی اعلان آویزاں کیا جائے کہ جس سے گاہک کو کوئی ابہام نہ رہے یا وزن کی شرط کے بغیر خرید و فروخت کا معاملہ کیا جائے تو پھر شرعا اس میں مضائقہ نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافقه البيوع للشيخ محمد تقي العثماني
ثم قد شاع في عصرنا أن الموزونات تباع في علب معبأة مكتوب عليها وزنها. ومعنى ذلك أن البائع عبّاها بعد وزنها، وكتب الوزن على القلب، وكذلك المكيلات، مثل الحليب، والأدهان، والبنزين، باع معبأة في علب مكتوب عليها كلها باللترات. وقد سبق جواز بيعها في بيان البيع على البرنامج، ولكن الناس يشترون هذه القلب، دون أن يزنوا أو يكيلوا ما فيها، ولا يمكنهم الوزن أو الكيل، لأن ذلك يحتاج إلى فك التعبئة، وفيه حرج شديد للبائع والمشتري کلبهما. فهل يجوز مثل هذا البيع؟ أما على مذهب الإمام مالك رحمه الله تعالى، وقول الشيخ الأنور رحمه الله تعالى، فلا إشكال، لأن المشتري إن اعتمد على كيل البائع، جاز له أكله بدون إعادة الكيل، سواء أكان بحضرته أم بغيبته. وقال الشيخ الأنور رحمه الله تعالى: " وأما إذا كانت الصفقة واحدة، فلا حاجة إلى الكيل ثانيا، بل كفاه گيل البائع، إن كان بحضرته عند صاحب الهداية، و عندي مطلقة، إذا اعتمد عليه.( ج 1،ص:409) مكتبة معارف القرآن، كراتشي)
و فی الھدایۃ:
«قال: "والأعواض المشار إليها لا يحتاج إلى معرفة مقدارها في جواز البيع" لأن»«بالإشارة كفاية في التعريف وجهالة الوصف فيه لا تفضي إلى المنازعة "»(ج:3،ص:23،ط:داراحیاء التراث العربی،بیروت،لبنان)
وفی البنایۃ شرح الھدایۃ:
(ومن اشترى مكيلا مكائلة ) ش: يعني رد الكيل م: (أو موزونا) ش: أي أو اشترى ما يوزن م: (موازنة) ش: يعني بالوزن قيد بالشراء لأنه إذا ملك مكيلا موزونا أو معدودا بهبة أو وصية أو ميراث جاز لمن ملك أن يتصرف فيه قبل القبض وقبل الكيل والوزن والعدد، قيد بقوله مكائلة أو موازنة، يعني بشرط الكيل والوزن بأن اشترى هذا الطعام على أنه عشرة أقفزة، أو هذا الحديد على أنه كذا كذا منا وقبضه لا يجوز له أن يتصرف فيه قبل الكيل والوزن وبعد ال مكائلة أيضا يخرج المجازفة، فإنه إذا اشتراه مجازفة وقبضه جاز التصرف فيه قبل الكيل والوزن على ما يجيء عن قريب إن شاء الله تعالى(ج:8،ص:250،ط:دارالکتب العلمیۃ بیروت)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سلیم اللہ علیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93428کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات