گناہ و ناجائز

بہن کا اپنی شادی نہ ہونے کی وجہ سے بھائی کی شادی میں رکاوٹ بننا

فتوی نمبر :
93433
| تاریخ :
2026-03-23
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بہن کا اپنی شادی نہ ہونے کی وجہ سے بھائی کی شادی میں رکاوٹ بننا

السلام علیکم!
میری ایک بہن ہے اور میں ہوں۔ میری بہن کی عمر 41 سال ہے اور میری عمر 39 سال ہے۔ ہمارے والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔
میرا مسئلہ بہت سنگین ہے۔ میں بیان نہیں کر سکتا کہ میں کس قدر ذہنی اذیت سے گزر رہا ہوں۔ میری بہن غیر شادی شدہ ہے اور اس کی عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کے رشتے میں مسائل آ رہے ہیں اور رشتوں میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
اب اس کی وجہ سے میری شادی بھی نہیں ہو پا رہی۔ وہ کہتی ہے کہ جب میری شادی ہوگی، اس کے بعد ہی تمہاری شادی کرواؤں گی۔ اس بات کو کرتے کرتے تقریباً دس سال گزر گئے ہیں۔
اب مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں؟ کیا میں اسے چھوڑ دوں؟ جب تک وہ موجود ہے، وہ میری شادی نہیں ہونے دے گی۔ اور جب بھی میں اپنی شادی کی بات کرتا ہوں تو گھر میں لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔
میں موت کی تمنا نہیں کر سکتا کیونکہ یہ سخت گناہ ہے، لیکن آخر میں کیا کروں؟ اپنا درد کسی کو سنا بھی نہیں سکتا۔ میں زندگی سے بہت تنگ آ چکا ہوں۔
براہِ کرم میرے مسئلے کا کوئی حل بتائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے لیے اپنی بہن کو تنہا چھوڑ کر اس سے مستقل علیحدگی اختیار کرنا بالکل مناسب نہیں، خصوصاً جبکہ سائل کے علاوہ اس کا کوئی اور ولی یا سرپرست بھی موجود نہیں۔ البتہ سائل کی شادی چونکہ بہن کی شادی پر موقوف نہیں، اس لیے اگر سائل نکاح کی استطاعت رکھتا ہے اور اس کے لیے مناسب رشتہ میسر ہے تو اسے اپنی شادی کا انتظام کرلینا چاہیے، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی بہن کے لیے بھی مناسب رشتہ تلاش کرنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ نیز سائل کی بہن کا اپنی شادی نہ ہونے کو بنیاد بنا کر سائل کی شادی میں رکاوٹ ڈالنا اور گھر میں لڑائی جھگڑے کا ماحول پیدا کرنا بھی قطعاً مناسب نہیں، لہٰذا اس سے احتراز کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی التنزیل العزیز:﴿وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ﴾(سورۃ النور: 32)
وفی صحيح البخاري- طوق النجاة: 5066 - حدثنا عمر بن حفص بن غياث حدثنا أبي حدثنا الأعمش قال حدثني عمارة عن عبد الرحمن بن يزيد قال دخلت مع علقمة والأسود على عبد الله فقال عبد الله كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم شبابا لا نجد شيئا فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يا معشر الشباب من استطاع الباءة فليتزوج فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء (7/ 3)
وفی الدر المختار: ( ويكون واجبا عند التوقان ) فإن تيقن الزنا إلا به فرض نهاية وهذا إن ملك المهر والنفقة وإلا فلا إثم بتركه بدائع( و ) يكون ( سنة ) مؤكدة في الأصح فيأثم بتركه ويثاب إن نوى تحصينا وولدا ( حال الاعتدال ) أي القدرة على وطء ومهر ونفقة ورجح في النهر وجوبه للمواظبة عليه والإنكار على من رغب عنه ( ومكروها لخوف الجور ) فإن تيقنه حرم ذلك (3/ 6)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93433کی تصدیق کریں
0     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات