عورت کو اولاد ہوئی اور اولاد ہونے کے کچھ گھنٹے بعد یا ایک دو دن کے بعد شوہر کا انتقال ہو گیا تو اس صورت میں عورت کی عدت کا حکم کیا ہوگا ؟
واضح ہوکہ اگربچےکی پیدائش کے بعد(خواہ چند گھنٹوں یا ایک دو دن بعدہی کیوں ناہو) عورت کے شوہر کا انتقال ہو جائے ، تواس پر عدتِ وفات واجب ہوگی، یعنی اگر شوہر کا انتقال قمری مہینے کی پہلی تاریخ میں ہواہو تو شوہر کی وفات کے دن سے چار ماہ دس دن عدت گزارے گی، اور اگر قمری مہینے کے درمیان میں انتقال ہواہوتو پھر ایسی صورت میں پورے ایک سو تیس دن عدت گزارے گی۔
کما فی الدر المختار: (و) العدة (للموت أربعة أشهر) بالأهلة لو في الغرة كما مر (وعشر) من الأيام بشرط بقاء النكاح صحيحا إلى الموت (مطلقا) وطئت أو لا ولو صغيرة، اھ (مطلب فی عدۃ الموت، ج:3، ص:510، م:سعید)۔
وفیہ ایضاً: (ومبدأ العدة بعد الطلاق و) بعد (الموت) على الفور اھ (باب العدۃ، مطلب فی وطء المعتدۃ بشبھۃ، ج:3، ص:520، م:سعید)
وفی الشامیۃ: قلنا إن ذكر كل من الأيام والليالي بصيغة الجمع لفظا، أو تقديرا يقتضي دخول ما يوازيه استقراء اهـ ومثله في الفتح (باب العدۃ، مطلب فی عدۃ الموت، ج:3، ص:510، م:سعید)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0