گناہ و ناجائز

ریاض الجنہ کا پرمٹ فروخت کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
93621
| تاریخ :
2026-03-30
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ریاض الجنہ کا پرمٹ فروخت کرنے کا حکم

!السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الحمدللہ آج کل کافی لوگ عمرے پر جا رہے ہیں ۔ مدینہ میں پہنچ کر ریاض الجنہ میں نوافل پڑھنے کی سب کی خواہش ہوتی ہے ۔ لیکن ریاض الجنہ میں نوافل پڑھنے کے لئے پہلے اجازت نامہ یعنی پرمٹ لینا ہوتا ہے ۔ پھر وہ آپ کو ریاض الجنہ جانے دیتے ہیں ۔ لیکن پرمٹ بہت مشکل سے ملتا ہے ۔ بعض لوگوں کو پرمٹ لینے کا طریقہ نہیں آتا تو وہ ریاض الجنہ نہیں جاسکتے ۔ بہت سے لوگ مسجد نبوی میں ریاض الجنہ کا پرمٹ کسی طریقے حاصل کرتے ہیں ۔ اور 10 ریال سے 100 ریال تک سیل کرتے ہیں ۔ اور اسی طرح کافی لوگ فیس بک انسٹاگرام پر ریاض الجنہ کا پرمٹ سیل کرتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ پرمٹ دو نمبر ہوتے ہیں ۔ کچھ پرمٹ ٹھیک ہوتے ہیں ۔ کیا ریاض الجنہ کا پرمٹ سیل کرنا جائز ہے ۔ اور جو اس پرمٹ سے پیسے آتے ہیں کیا وہ حلال ہیں ۔ اس پیسے کواستعمال کر سکتے ہیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ ریاض الجنہ میں حاضری ہر مسلمان کے لئے یکساں طور پر مشروع اور مباح ہے ،کسی فرد یا ادارے کو اس پر اختصاصی یا مالی حق حاصل نہیں کہ اسے فروخت کردیا جائے البتہ زائرین کے نظم و ضبط اور سہولت کے پیش نظر متعلقہ انتظامیہ نے وہاں حاضری کے لئے پرمٹ کا حصول انتظامی طور پر لازم قراردیا ہے لہذا یہ پرمٹ کوئی قابل معاوضہ حق یا مالی منفعت نہیں بلکہ محض ایک انتظامی اجازت نامہ ہے اس لئے اس کے عوض رقم وصول کرنا یا اس کی خریدو فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں اس سے اجتناب لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الشامیۃ : لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف،
(قوله: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها. أقول: وكذا لا تضمن بالإتلاف قال: في شرح الزيادات للسرخسي وإتلاف مجرد الحق لا يوجب الضمان؛ لأن الاعتياض عن مجرد الحق باطل." (ج 4 ص:518 مطلب في بيع الجامكية ط: سعید )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93621کی تصدیق کریں
0     17
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات