گناہ و ناجائز

گورنمنٹ کی طرف سے اسکول میں ملنے والی کتابیں کسی اور بچہ کو دینا

فتوی نمبر :
93796
| تاریخ :
2026-04-05
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

گورنمنٹ کی طرف سے اسکول میں ملنے والی کتابیں کسی اور بچہ کو دینا

پنجاب کے گورنمنٹ سکولوں میں مفت کتابیں طلباء کو دی جاتی ہیں ، کیا ان کتابوں کو سکول کے بچوں کے علاوہ کسی اور پرائیوٹ سکول میں پڑھنے والے بچے کو دینا یا کسی استاد کا اپنے ان بچوں کے لیے لے جانا جو اس سکول کے علاوہ کسی اور سکول میں پڑھتا ہو ، اس کا کیا حکم ہے ؟ بعض اوقات سکول میں کتابیں بچ جاتی ہیں ان میں سے کسی اور سکول کے بچوں کو دینایا استاد کا اپنے بچوں کے لیے لے جانے کا کیا حکم ہے ؟ برائے مہربانی تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں ۔ اور اگر ممکن ہو تو جلد جواب عنایت فرمائیں کیونکہ آج کل کتابیں تقسیم کی جا رہی ہیں اور یہ مسئلہ درپیش ہے ، اس لیے جلد رہنمائی فرمائیں ۔ جزاکم اللہ خیرا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

حکومت کی طرف سے سرکاری سکولوں کے طلبہ کو مفت فراہم کی جانے والی کتابیں سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے ہی مخصوص ہوتی ہیں، لہٰذا ان کتابوں کو کسی پرائیویٹ سکول کے طالب علم کو دینا یا کسی استاد کا اپنے ایسے بچوں کے لیے لے جانا جو سرکاری سکول میں زیرِ تعلیم نہ ہوں ، شرعاً جائز نہیں، کیونکہ یہ امانت کو اس کے مقررہ مصرف کے علاوہ استعمال کرنا ہے، اسی طرح اگر کسی سکول میں کتابیں بچ جائیں تو بھی اساتذہ یا انتظامیہ کو اپنی صوابدید سے ان کا مصرف تبدیل کرنے کا اختیار نہیں، بلکہ محکمہ تعلیم کے قواعد و ضوابط کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے، البتہ اگر پنجاب گونمنٹ کی طرف سے زائد کتابیں کسی دوسرے مستحق کو دینے کی صریح اجازت ہو تو اس اجازت کے مطابق عمل کرنا جائز ہوگا،اس کے بعد گورنمنٹ کی اجازت سے دوسرے کسی بھی مصرف میں خرچ کر سکتے ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی البحر الرائق شرح کنز الدقائق: و في القنية من آخر الوقف بعث شمعا في شهر رمضان إلى مسجد فاحترق و بقي منه ثلثه أو دونه ليس للإمام و لا للمؤذن أن يأخذ بغير إذن الدافع و لو كان العرف في ذلك الموضع أن الإمام و المؤذن يأخذه من غير صريح الأذن في ذلك فله ذلك اهـ (5/270)۔
و فی رد المحتار: و كذا سيأتي في فروع الفصل الأول أن قولهم شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم و الدلالة، و وجوب العمل به قلت: لكن لا يخفى أن هذا إذا علم أن الواقف نفسه شرط ذلك حقيقة أما مجرد كتابة ذلك على ظهر الكتب كما هو العادة فلا يثبت به الشرط اھ ( 4/366)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله: لولده الفقير) (الی قولہ) وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل الخ (3/269)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حمزہ منان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93796کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات