گناہ و ناجائز

ادارہ کا ملازمین کے ساتھ کئے ہوئے معاہدہ کو پور ا نہ کرنا

فتوی نمبر :
94004
| تاریخ :
2026-04-09
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ادارہ کا ملازمین کے ساتھ کئے ہوئے معاہدہ کو پور ا نہ کرنا

محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عرض یہ ہے کہ میری ایک ادارے میں تقرری ہوئی تھی۔ تقرری کے وقت ادارہ کی طرف سے مجھے یہ بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر مجھے تین ماہ کے لیے بطور پروبیشن (آزمائش)رکھا جائے گا، اور اس دوران میری ماہانہ تنخواہ 37,000 روپے مقرر کی گئی۔
نیز اس کے ساتھ یہ بھی واضح طور پر طے پایا تھا کہ تین ماہ مکمل ہونے کے بعد میری تنخواہ میں اضافہ کر دیا جائے گا، اور یہ اضافہ 50,000 سے 55,000 روپے ماہانہ تک ہوگا۔
تقرری کے وقت ادارے کے ساتھ اعتماد، حسنِ ظن اور باہمی احترام کی فضا تھی۔
الحمد للہ میں نے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری کے ساتھ ادا کیں، اور اب اس تقرری کو ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، لیکن ادارہ کی طرف سے تاحال میری تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔
میں نے اس معاملہ میں کئی مرتبہ ادارہ کو یاد دہانی بھی کرائی ہے اور متعدد بار باقاعدہ درخواست بھی دی ہے، مگر اس کے باوجود تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا گیا۔
مزید یہ کہ ادارہ نے صرف میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ میرے ساتھ دیگر کئی افراد کے ساتھ بھی اسی نوعیت کی بات چیت کی اور اس کی کئی بار یقین دہانی بھی کروائی، اور ادارہ نے کچھ دیگر افراد کے ساتھ اپنے معاہدے کو پورا بھی کیا ہے، لیکن میرے ساتھ کچھ دیگر افراد بھی ہیں جن کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو پورا نہیں کیا جا رہا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے سوال میں اپنا مسئلہ واضح نہیں کیا کہ سائل کو کیا پوچھنا مقصود ہے، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا؛ تاہم ابتدائی تقرری کے وقت ادارے کے منتظمین نے سائل کے ساتھ تین ماہ گزرنے کے بعد تنخواہ میں اضافے کا اگر وعدہ کیا ہو (جیسا کہ سوال میں مذکور ہے) تو انہیں حسبِ معاہدہ سائل کی تنخواہ میں اضافہ کرنا چاہیے، ورنہ بلا کسی عذر کے وعدہ خلافی کا گناہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی: يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ۚ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَـهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ غَيْـرَ مُحِـلِّى الصَّيْدِ وَاَنْتُـمْ حُرُمٌ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيْدُ الآیۃ(المائدہ۔آیۃ: 1 )
وفی المسند الجامع:عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:(ثلاث في المنافق، وإن صلى، وإن صام، وزعم أنه مسلم: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا ائتمن خان.)اھ(باب فی أبو هريرة الدوسي،
ج:16،ص:486،ط:دار الجلیل)
و فی مشکاۃ المصابیح: عن عمرو بن عوف المزني عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:"الصلح ‌جائز‌بين ‌المسلمين إلا صلحا حرم حلالا أو أحل حراما والمسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما" . رواه الترمذي وابن ماجه وأبو داود وانتهت روايته عند قوله شروطهم، (كتاب البيوع، باب الإفلاس والإنظار، الفصل الثاني، ص:253،ط:قديمي)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94004کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات