گناہ و ناجائز

بیٹے کا بیمار والدہ کو استنجا کروانے اور غسل دلوانے کا حکم

فتوی نمبر :
94074
| تاریخ :
2026-04-11
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بیٹے کا بیمار والدہ کو استنجا کروانے اور غسل دلوانے کا حکم

السلام علیکم! رہنمائی فرمائیے گا، ایک گھر میں والدہ فالج کی وجہ سے حرکت کرنے اور بولنے سے محروم ہیں، ان کے تین بیٹے ہیں اور ایک بہو بھی ہے، والد صاحب بھی حیات ہیں، تینوں بیٹے جوان اور صاحب استطاعت ہیں،گھر میں کاموں کے لیے دو خاتون نوکرانیاں بھی موجود ہیں اور والدہ کی خدمت کے لیے خاتون نرس بھی ہیں، ایسی صورت میں ایک بیٹا اپنی والدہ کو بے لباس کر کے انکا پاخانہ و بیشاب وغیرہ صاف کر رہا ہے ،اور اکثر انکو نہلا بھی رہا ہے تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے ؟جزاک اللّٰہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عورت کا اپنے محرم کے حق میں بھی ناف سے لے کر گھٹنے تک اور پیٹ و پیٹھ ستر میں داخل ہے، جسے چھونا یا اسے دیکھنا شرعاً جائز نہیں، لہٰذا مذکور بیٹے کا والدہ کے اعضاءمستورہ کو کھولنا یا چھونا جائز نہیں، البتہ اس کا شوہر (یعنی لڑکے کا والد) اپنی اہلیہ کے لیے مذکور امور کی ادائیگی کر سکتا ہے، لیکن کسی وجہ سے اگر وہ یہ خدمات انجام نہ دے سکیں تو ایسی صورت میں بہو یا دیگر خواتین ملازمات کو اس خدمت کو انجام دینا چاہیے، تاہم انہیں بھی چاہیے کہ وہ ناف سے لے کر گھٹنے تک کی جگہ جو کہ ان کے حق میں بھی ستر ہے بلا حائل نہ چھوئے، بلکہ دستانے وغیرہ پہن کر ہاتھ لگائیں، نیز بقدرِ ضرورت ہی ستر کی جگہ پر نظر ڈالنے پر اکتفاء کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

كمافي حاشية ابن عابدين:تحت(قوله: كمريض إلخ) في التتارخانية: الرجل المريض إذا لم تكن له امرأة ولا أمة وله ابن أو أخ وهو لا يقدر على الوضوء قال يوضئه ابنه أو أخوه غير الاستنجاء؛ فإنه لا يمس فرجه ويسقط عنه والمرأة المريضة إذا لم يكن لها زوج وهي لا تقدر على الوضوء ولها بنت أو أخت توضئها ويسقط عنها الاستنجاء. اهـ. ولا يخفى أن هذا التفصيل يجري فيمن شلت يداه؛ لأنه في حكم المريض اھ(‌‌فصل الاستنجاء،ج:١،ص:٣٤١،ط:سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94074کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات