نان و نفقہ

کیا شوہر کے مارپیٹ کی وجہ سے میکہ جانے والی عورت کے نفقہ کا حکم

فتوی نمبر :
94418
| تاریخ :
2026-04-21
معاملات / عدت نان و نفقہ / نان و نفقہ

کیا شوہر کے مارپیٹ کی وجہ سے میکہ جانے والی عورت کے نفقہ کا حکم

السلام علیکم
میری شادی ایک ایسے شخص سے ہوئی جو کہ مفتی اور امامِ مسجد ہے۔ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے اور ان کی پہلی بیوی اور پانچ بچے موجود ہیں۔

شادی کےشروع سے ہی ہمارے درمیان بہت زیادہ لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ میرے شوہر ہر بات پر اپنی حکمرانی اور “حاکم” ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، حالانکہ ان باتوں کا نہ شوہر کی اطاعت سے کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی شریعت سے۔

ابھی صرف شادی کو ڈیڑھ ماہ ہی ہوا تھا کہ ہمارے جھگڑے کے دوران میرے شوہر نے مجھے بہت زیادہ مارا، یہاں تک کہ میرے منہ پر نیل اور گلا دبانے کی صورت میں گلے پر واضح نشانات پڑ گئے اسی دوران نیچے کے مالک مکان کے آنے پر مارپیٹ رک گئی۔ میرے شوہر نے مالک مکان سے کہا کہ “میں نماز پڑھا کر آتا ہوں، پھر اسے گھر چھوڑ دوں گا۔”

میں اس واقعہ کے بعد بہت خوفزدہ تھی کہ مالک مکان کے جانے کے بعد وہ دوبارہ مجھے مارے پیٹے یا کہیں قید نہ کر دے۔ اس خوف کی وجہ سے میں نے اپنے گھر فون کر دیا کہ آ کر مجھے لے جائیں، کیونکہ میں ان کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی۔ اس پر میرے گھر والے آ گئے، اور میرے جیٹھ اور شوہر بھی آ گئے۔

سب کے سامنے بات ہوئی تو میرے شوہر نے کہا کہ “میں نے نہیں مارا”، جس پر میں نے کہا کہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا لیں تو میں خاموشی سے چلی جاؤں گی۔ کچھ بحث کے بعد اس نے سرسری طور پر مارنے کا اقرار کر لیا۔

اس کے بعد میرے جیٹھ نے کہا کہ لڑکی کو ہسپتال لے جا کر دکھایا جائے اور پھر بعد میں بات ہوگی۔ اس کے بعد معاملہ پولیس اسٹیشن تک گیا۔ پولیس نے اپنی طرف سے کارروائی کرتے ہوئے شوہر کو بلانے کی کوشش کی، لیکن چونکہ ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تھی اس لیے وہ نہ آئے اور نہ ہی کوئی خاص ردعمل دیا۔ بعد میں بھی پولیس انسپکٹر نے فون کر کے بلایا، مگر وہ نہ آئے اور ان کے وکیل نے فون پر کہا کہ “میرا کلائنٹ عدالت میں ہے اور لڑکی کو طلاق بھیج رہا ہے، اب جو بات کرنی ہے عدالت میں آ کر کریں۔”

اس کے باوجود دو ماہ تک طلاق نہیں دی گئی۔ پھر میرے شوہر نے مجھے میسج کیا کہ “تم کیا چاہتی ہو؟” میں نے جواب دیا کہ آپ خود آ کر بات کریں اور عزت کے ساتھ مجھے لے جائیں، مگر وہ نہ آئے۔ میرے گھر والے بھی بار بار کہتے رہے کہ آ کر بات کر لیں، لیکن وہ کبھی کوئی شرط رکھ دیتے، کبھی انکار کر دیتے۔ کبھی کہتے کہ فلاں ماموں کو بھیجو، کبھی کہتے کہ میں تمہاری امی اور بڑے بھائی سے بات نہیں کروں گا۔

وہ کہتے ہیں کہ میں ایک کاغذ لاؤں گا جس میں میری شرائط ہوں گی، اس کے بعد ہی تمہیں لے کر جاؤں گا۔ جب میں نے ان سے نکاح نامہ مانگا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ “تم لالچی ہو”، کبھی کہتے کہ نکاح نامہ گم ہو گیا ہے۔ میرے نکاح نامہ میں ایک لاکھ روپے حق مہر اور طلاق کی صورت میں پانچ تولہ سونا درج ہے، غالباً اسی وجہ سے وہ نہ طلاق دے رہے ہیں اور نہ ہی مجھے لے جا رہے ہیں۔

جس گھر میں ہم رہ رہے تھے وہ بھی اس جھگڑے کے بعد خالی کر دیا گیا ہے، جب کے ہم نے منع بھی کیا کہ پہلے بات کرلی جائے ابھی گھر خالی نہ کرے اور اب میرے لیے کوئی رہائش بھی موجود نہیں ہے۔ اس کے باوجود وہ کبھی مجھ سے ملتے ہیں  مجھے ملنے بھی بلاتے ہیں اور میں چلی بھی جاتی ہوں اور وہ مجھ سے پیار سے بات کرتے ہیں جیسے سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہو، وہ  گھر کی بات تو کرتے ہیں، پر جب بھی لے جانے کی بات ہوتی تو اسٹور روم نما مسجد کا کمرہ جس میں ضروریات زندگی نہیں گزاری جا سکتی اُس میں آنے کا کہتے ہیں کہ ابھی حالات نہیں اور نہ ہی دوسری رہائش کا کوئی انتظام کرتے ہیں۔ اور آگے سے شرطیں رکھتے ہیں اورعین وقت میں ہر بات سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور لیکر بھی نہیں جاتے۔اور یہ واضح کردوں کے حالات بالکل خراب نہیں ہے کیوں کہ سارے خرچے صحیح چل رہے ہیں پہلی بیگم کے،اور ابھی گاڑی بھی لے لی ہے 

جب میں اپنے نان نفقہ کا مطالبہ کرتی ہوں، یہ کہہ کر کہ میں آٹھ ماہ سے واپس جانے کے لیے تیار ہوں مگر آپ اپنی ناراضگی اور ضد کی وجہ سے مجھے لے کر نہیں جا رہے، تو وہ کہتے ہیں کہ “تم خود گھر سے گئی ہو اس لیے میں نان نفقہ نہیں دوں گا۔” مجھ پر کوئی فرض نہیں ہے 

حالانکہ میرا مؤقف یہ ہے کہ میں نافرمانی کی وجہ سے نہیں بلکہ شدید مارپیٹ اور جان کے خوف کی وجہ سے آئی تھی، اور اب بھی واپسی کے لیے تیار ہوں۔
مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

1. کیا ایسی صورت میں جبکہ بیوی شوہر کی شدید مارپیٹ اور جان کے خوف کی وجہ سے گھر سے آئی ہو، اور اب بھی واپس جانے کے لیے تیار ہو، اسے “ناشزہ” قرار دیا جائے گا یا نہیں؟

2. کیا ایسی حالت میں جب شوہر خد اپنی ضد آور ناراضگی کی وجہ سے نہ لے کر جا رہا ہو شوہر پر بیوی کا نان نفقہ دینا شرعاً واجب ہے یا نہیں؟

3. کیا شوہر کا یہ کہنا کہ “تم خود گھر سے گئی ہو اس لیے نان نفقہ نہیں دوں گا” درست ہے؟
4. کیا میرا نان نفقہ مانگنا جائز ہے یا نہیں۔۔
رہنمائی فرما دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں سائلہ کے شوہر کا موقف مذکور نہیں،تاہم اگر سائلہ کا بیان واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو،اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے اسے سخت اور شدید مار پیٹ کا نشانہ بنایا ہو،جس کی وجہ سے اس نے اپنے تحفظ کےلئے شوہر کا گھر چھوڑ کر والدین کے ہاں رہائش اختیار کرلی ہو،اور پھر رہائش وغیرہ کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے سائلہ کا شوہر کے پاس آنے میں رکاوٹ شوہر کی طرف سے ہو تو ایسی صورت میں سائلہ شرعاً "ناشزہ" نہیں کہلائے گی ۔چنانچہ سائلہ کا والدین کے گھر رہائش اختیار کرنے کے باوجود نان و نفقہ شوہر پر بدستور واجب ہے ،لہٰذا سائلہ کے شوہر کا یہ کہنا کہ “تم خود گھر سے گئی ہو اس لیے نان نفقہ نہیں دوں گا” شرعاً درست نہیں ہے۔بلکہ سائلہ اپنے اس حق کا مطالبہ کرنے میں مکمل طور پر حق بجانب ہے اور ضرورت پڑنے پر عدالت کے ذریعے شوہر کو ادائیگی پر مجبور بھی کیا جا سکتا ہے ۔تاہم اگر باہمی رضامندی یا بذریعہ عدالت سائلہ کا نان ونفقہ طے نہ ہو تو سائلہ کو گزشتہ عرصے کے نان ونفقہ کے مطالبے کا حق حاصل نہ ہوگا۔جبکہ بیوی کو نہ بسانا اور نہ ہی طلاق دے کر آزاد کرنا اسے"معلق" رکھنے کے مترادف ہے، جو کہ قرآن و سنت کے احکامات کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ لہٰذا شوہر پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اپنی بیوی کو معروف طریقے کے مطابق آباد کرے یا اسے شائستگی کے ساتھ رخصت کر دے۔

مأخَذُ الفَتوی

القرآن الكريم:
﴿وَإِذَا طَلَّقۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمۡسِكُوهُنَّ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعۡرُوفٖۚ وَلَا تُمۡسِكُوهُنَّ ضِرَارٗا لِّتَعۡتَدُواْۚ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهُۥۚ ﴾ [البقرة: 231]
«الجوهرة النيرة على مختصر القدوري» :
«(قوله وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله) ‌النشوز خروجها من بيته بغير إذنه بغير حق»(2/ 84)
«المحيط البرهاني»:
وذكر في «الفتاوى» عمن أوفى مهر امرأته وهو يسكنها في أرض الغصب وامتنعت هي منه قال: لها النفقة لأنها محقة وليست بناشزة (3/ 526)
«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» :
«قال رحمه الله (ولو سكن في بيت الغصب فامتنعت لا) أي ‌لا ‌تكون ‌ناشزة لأنها محقة إذ السكنى فيه حرام.»(6/ 221)
«العناية شرح الهداية » :
«وإذا عادت ‌جاء ‌الاحتباس فتجب النفقة.» (4/ 382)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عرفان اللہ حبیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94418کی تصدیق کریں
0     143
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • عدت کے خرچہ اور مہر گم ہونے کے بعد دوبارہ ادائیگی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   نان و نفقہ 0
  • کیاخود کمانے والی بیوی کا خرچہ شوہر پر لازم ہوگا؟

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • طلاق کے بعدعورت کا شوہر سے خرچہ مانگنےکا حکم

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • عدت گزرنے کے بعد نکاح نامہ میں لکھی گئی ماہوار رقم کا حکم

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • ؑرخصتی اور خلوت سے قبل طلاق کی صورت میں عدت کا حکم

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • کیا شوہر کا بیوی کی تنخواہ میں کوئی حق بنتاہے ؟

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • شوہر کا گھر بلا عذرِ شرعی چھوڑ کر میکے میں رہنے کی صورت میں نان و نفقے کا مسئلہ

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • استطاعت کے باوجود بیوی کا نان و نفقہ نہ دینے والے شوہرکا حکم

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • والدہ کےنان نفقہ کا حکم

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • بیوی و سسر کا جھوٹ بول کر بذریعہ عدالت شوہر سے بھاری رقم وصول کرنا

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • والد کے گھر میں الگ رہائش کے باوجود بیوی کا علیحدہ گھر کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • شوہر کا بیوی کو نان نفقہ نہ دینے کا حکم

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • والدین کا نفقہ اولاد میں سے کس کے ذمہ لاز م ہے؟

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • شوہر کی اجازت کے بغیر میکے میں رہنے والی عورت کے نفقے کا حکم

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • طلاق کے بعدحق مہراور عدت کے اخراجات کاحکم

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • شوہر پر بیوی کو کس قدر رہائش اور کب تک نان نفقہ دینا لازم ہے؟

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • کیا ملازمت کرنے والی بیوی کا نان نفقہ شوہر پر لازم ہے؟

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • بیوہ کا سسرال ک تعاون نا کرنے کی وجہ سے اپنے بچہ کو ان سے ملاقات کرنے سے روکنے کا حکم

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • شوہر کا بیوی کو نوکری کرنے اور والدین کی زیارت سے منع کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • کیا عورت کی کمائی پر مرد کا شرعاً حق ہے؟

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • شوہر کی وفات کے بعد بیوی کے ماہانہ خرچہ کاحکم

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • لڑکی کا عدالت کے ذریعہ نفقہ لینا

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • ماں کے اکیلا ہونےکے باوجود بیوی کا الگ مکان کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • کیاشوہر کی اجازت کے بغیر میکے میں رہنے والی بیوی کا خرچہ لازم ہوگا؟

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
  • شوہر کی اجازت کے بغیر میکے جانے کی صورت میں نفقہ کا حکم

    یونیکوڈ   نان و نفقہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات