استفتاء ہمارا یہ ہے کہ کیا مسجد کے اندر تصویر لگانا جائز ہے؟ حدیث و قران کی روشنی میں جواب ارسال فرمائیں۔
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس کی مراد اس تصویر سے کونسی تصویر ہے ،تاہم کسی جاندار کی تصویر پرنٹ کرنا یا مسجد سمیت کسی بھی جگہ پر کسی بھی جاندار کی پرنٹ شدہ تصویر لگانا یا لٹکانا شرعاً ناجائز اور حرام ہے ،جس پر احادیث مبارکہ میں بہت سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ،اور یہ مسجد کے تقدس کے منافی عمل بھی ہے،البتہ اگر بے جان اشیاء (جیسے خانہ کعبہ، مسجد نبوی وغیرہ ) کی تصویر مراد ہو تو اس کی اگرچہ گنجائش ہے لیکن اس طرح تصاویر کو بھی قبلے کی جانب نمازیوں کے آگے لگانے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ نمازیوں کا خشوع وخضوع متاثر نہ ہو،البتہ دائیں بائیں جانب لگانے کی گنجائش ہے ۔
کما فی صحیح لمسلم: عن مسروق ، عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون،(باب: لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة،ج: 6،ص: 161،رقم الحدیث: 2109،مط: دار الطباعۃ العامة)
و فیہ ایضاً: عن عبد الرحمن بن القاسم ، عن أبيه : أنه سمع عائشة تقول: « دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد سترت سهوة لي بقرام فيه تماثيل، فلما رآه هتكه وتلون وجهه وقال: يا عائشة، أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله. قالت عائشة: فقطعناه فجعلنا منه وسادة أو وسادتين،(باب: لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة،ج: 6،ص: 159،رقم الحدیث: 2107،مط: دار الطباعۃ العامة)
و فی الدرالمختار: (ولا بأس بنقشه خلا محرابه) فإنه يكره لأنه يلهي المصلي. ويكره التكلف بدقائق النقوش ونحوها خصوصا في جدار القبلة قاله الحلبي. وفي حظر المجتبى: وقيل يكره في المحراب دون السقف والمؤخر انتهى. وظاهره أن المراد بالمحراب جدار القبلة فليحفظ،اھ(كتاب الصلاة،باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج: 1،ص: 658،مط: دار الفکر)
و فی الفتاوی الھندیة: لا بأس بنقش المسجد بالجص والساج وماء الذهب، والصرف إلى الفقراء أفضل (الی قوله) وكره بعض مشايخنا النقوش على المحراب وحائط القبلة؛ لأن ذلك يشغل قلب المصلي الخ (ج: 5،ص: 319،مط: دارالفکر )