گناہ و ناجائز

بغیر اجازت برانڈز کی کاپی بیچ کرآمدن حاصل کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
94687
| تاریخ :
2026-04-27
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بغیر اجازت برانڈز کی کاپی بیچ کرآمدن حاصل کرنے کا حکم

میں آن لائن پلیٹ فارمز پر برانڈڈ جیکٹس کی نقلیں فروخت کرتا ہوں جیسے bmw، yamaha وغیرہ۔ ہمارے صارفین جانتے ہیں کہ یہ کاپیاں ہیں۔ ہمیں اکثر ان برانڈز کی طرف سے کاپی رائٹ کی ہڑتالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے نتیجے میں ہمارے ایمیزون یا ایٹسی اکاؤنٹ پر پابندی لگ جاتی ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ان نقلوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے یا حرام؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی معروف رجسٹرڈ کمپنی یا برانڈ کے ڈیزائن کی نقل (Copy) کی تیاری اور خرید و فروخت کرنا نہ صرف قانوناً ممنوع ہے بلکہ دھوکہ دہی کے زمرے میں آنے کی وجہ سے شرعاً بھی ناجائز ہے لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر صارفین کو ان مصنوعات کے نقل (Copy) ہونے کا علم ہو تو اگرچہ ان مصنوعات کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو حرام نہیں کہا جاسکتا لیکن چونکہ یہ طریقہ کار ممنوع ہے اور اس کی خریدو فروخت غیر قانونی امور میں معاونت کی صورت بنتی ہے جو اعانت علی المعصیۃ کی وجہ سے جائز نہیں اس لئے اس طرح کے کاروبار سے اجتناب کرنا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي : وبناء عليه يعتبر إعادة طبع الكتاب أو تصويره اعتداء على حق المؤلف، أي أنه معصية موجبة للإثم شرعاً، وسرقة موجبة لضمان حق المؤلف في مصادرة النسخ المطبوعة عدواناً وظلماً، وتعويضه عن الضرر الأدبي الذي أصابه. وذلك سواء كتب على النسخ المطبوعة عبارة: (حق التأليف محفوظ للمؤلف) أم لا، لأن العرف والقانون السائد اعتبر هذا الحق من جملة الحقوق الشخصية (ج 4 ص 2862)
وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق :والقبح المجاور لا يعدم المشروعية أصلاكالصلاة في الارض المغصوبة والبيع وقت النداء (ج4 ص:446 ط:دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94687کی تصدیق کریں
0     4
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات