میں ایک کال سینٹر میں کام کرتا ہوں۔ ہمارا پروجیکٹ امریکہ بیسڈ ہے، لیکن ہم پاکستان سے کام کرتے ہیں۔ ہمارا کام یہ ہوتا ہے کہ ہم امریکن لوگوں کو کالز کرتے ہیں اور انہیں آٹو اور ہوم انشورنس کے حوالے سے کوٹس آفر کرتے ہیں۔ جب کوئی کسٹمر دلچسپی ظاہر کرتا ہے تو ہم اس کی کال ایک لائسنس یافتہ امریکن انشورنس ایجنٹ کو ٹرانسفر کر دیتے ہیں، جو آگے اس سے ڈیل کرتا ہے۔ اس کام کے بدلے ہمیں کمیشن یا تنخواہ ملتی ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح انشورنس کے لیے کولڈ کالنگ کرنا اور کسٹمر کو ایجنٹ تک پہنچانا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اگر ہم یہ سروس صرف نان مسلم (امریکن) لوگوں کو فراہم کریں، تو کیا اس سے حکم میں کوئی فرق پڑتا ہے؟براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ مروجہ انشورنس ”ربا، قمار اور غرر “پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز وحرام ہے، نیز جس طرح از خود انشورنس پالیسی لینا شرعاً ناجائز ہے، اسی طرح کسی اور کلائنٹ کو بھی اس کے لیے آمادہ کرنا شرعاً ناجائز ہے، چنانچہ سائل کا امریکن لوگوں کو کال وغیرہ کرکے انشورنس پالیسی لینے کے لیے آمادہ کرنا اور اس پر کمیشن یا تنخواہ لینا شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے، جبکہ غیر مسلم لوگوں کو مذکور سروس فراہم کرنے کی وجہ سے اس حکم پر کوئی فرق نہیں پڑتا، دونوں صورتیں ہی ناجائز ہیں۔
كما قال الله تبارك وتعالى: ﴿وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ﴾ [المائدة: 2]
وفي المعلم بفوائد مسلم: «قوله صلى الله عليه وسلم: "لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إلَاّ كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الأوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا لأنَّهُ كَانَ أوَّلَ مَنْ سَنَّ القَتْلَ" (ص 1303).
الكِفل -بكسر الكاف-: الجزء والنصيب، ومنه قول الله تعالى: {يَكُنْ لَهُ كِفْلٌ مِنْهَا} (65).
قال الشيخ: هذا الحديث أصل في أن المعونة على ما لا يحل لا تحل، وقال الله تعالى: {وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} (66). وقد جعل الدال على الخير كفاعله (وهكذا الدال على الشر كفاعله) (67). ولعل القتل إنما كان في الناس على جهة التعليم فأخذه واحد عن واحد عن آخر (68) حتى ينتهى إلى ابن آدم الأول. وهكذا التعليم في البدع». (2/ 380)
وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وكذا لا يحل له الدلالة عليه، والإشارة إليه بقوله صلى الله عليه وسلم «الدال على الخير كفاعله، والدال على الشر كفاعله» ولأن الدلالة والإشارة سبب إلى القتل، وتحريم الشيء تحريم لأسبابه. (2/ 197)
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0