میرا سوال یہ ہے کہ مجھے یہ بتایا جائے کہ بیوی کا ذاتی مال، جس میں سونا بھی شامل ہے، خواہ وہ سونا اسے سسرال والوں کی طرف سے تحفے کے طور پر ملا ہو یا اس کے اپنے والدین کی طرف سے ملا ہو، اگر سسرال والے وہ سونا اپنے پاس رکھ لیں اور بیوی بار بار اس کا مطالبہ کرے، لیکن وہ یہ کہیں کہ یہ سونا شوہر کے کام آئے گا، ہمارے پاس رہنے دو، ہم اس کی حفاظت کر رہے ہیں، تو کیا اسلام کی رو سے ایسا کرنا جائز ہے؟
اور اگر اس معاملے کو اس طرح بیان کیا جائے کہ شوہر کہتا ہے: ’’جو میں کہوں گا، تمہیں وہی کرنا ہوگا‘‘، یعنی شوہر یہ کہتا ہے کہ اسلام میں شوہر کا حکم ماننا ضروری ہے، اس لئے تم اپنا سونا سسرال والوں کے پاس رہنے دو، تو کیا اسلام کی رو سے شوہر کا اس طرح حکم دینا اور بیوی کا اپنا سونا سسرال والوں کے پاس رکھنے پر مجبور ہونا جائز ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور اسلامی احکام کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کو والدین کی جانب سے دیا جانے والا سونا اور سسرال کی طرف سے گفٹ کیا ہوا سونا اس کی ذاتی ملکیت ہے اس میں وہ جس طرح چاہے جائز تصرف کر سکتی ہے ،شوہر کو حق حاصل نہیں کہ وہ سائلہ کی مرضی کے خلاف اس کے مال میں تصرف کرے یا اس کو اپنے مال میں مرضی کے تصرف سے منع کرے۔ چنانچہ سسرال والوں پر شرعاً لازم ہے کہ سائلہ کو اس کا مال حوالہ کرکے مواخذۂ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی حاصل کریں ،بصورتِ دیگر سائلہ ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا بھی کا حق بھی رکھتی ہے۔
قال اللہ تبارک و تعالیٰ: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ [البقرة: 188]۔
و فی درر الحکام فی شرح مجلۃ الأحکام: لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه أو وكالة منه أو ولاية عليه وإن فعل كان ضامنا. الخ (المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية المادة:96 ج:1 ص:51 ط: رشيدية)۔
وفيه أيضاً: لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي وإن أخذ ولو على ظن أنه ملكه وجب عليه رده عينا إن كان قائما وإلا فيضمن قيمته إن كان قيميا. الخ (المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية المادة:97 ج:1 ص:51 ط: رشيدية)۔
و فی الدر المختار: لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته إلا في مسائل مذكورة في الأشباه. الخ (كتاب الغصب مطلب فيما يجوز من التصرف الخ ج:6 ص:200 ط: سعيد)۔