گناہ و ناجائز

بیٹوں کا والد سے زندگی میں مال و جائیداد تقسیم کرنے کا مطالبہ کرنا

فتوی نمبر :
94990
| تاریخ :
2026-05-06
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بیٹوں کا والد سے زندگی میں مال و جائیداد تقسیم کرنے کا مطالبہ کرنا

میں نے سال (2015)میں اپنا ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا تھا جو آج کی تاریخ میں کامیاب چل رہا ہیں ،میرے چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں ،جس میں سے ایک بڑے بیٹے کا سال (2018)میں انتقال ہو چکا ہے ،اب تین بیٹے اور چار بیٹیاں حیات ہیں ،اور میں ایک بیٹے کے ساتھ رہ رہا ہوں اور وہ میرے ساتھ کا روبار بھی چلا رہا ہے، اب یہ بیٹے مجھ سے تقسیم کا مطالبہ کرتے ہے،میری بیوی بھی بیمار ہے اس کی دیکھ بال اور خرچہ بھی میں خود کرتا ہوں، اور میرے بیٹے جو مجھ سے تقسیم کا مطالبہ کرتے ہے وہ بھی اپنا کاروبار کرتے ہے اور اپنی حد تک میں ان کی مدد اور سپورٹ بھی کرتا ہوں،لہذا اب شریعت کا جو بھی قانون ہو اس کی روشنی میں میں یہ مسئلہ حل کرنا چاہتا ہوں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا لازم نہیں،اور نہ ہی أولاد کو اس جائیداد میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ، لہذا سائل پر بھی اپنی زندگی میں أولاد کے درمیان ذاتی جائیداد تقسیم کرنا لازم نہیں ،اور نہ ہی أولاد کا تقسیم جائیداد پر إصرار کرنا درست ہے ،اس لیے انھیں اپنے اس ناجائز مطالبہ سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی تبیین الحقائق: اعلم أن للإنسان أن يتصرف في ملكه ما شاء من التصرفات ما لم يضر بغيره ضررا ظاهرا اھ(كتاب القضاء،باب مسائل شتى،ج: 4،ص: 196،مط: دار الکتاب الاسلامی)
و فی درر الحکام: كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير اھ(الفصل الأول في بيان بعض القواعد المتعلقة بأحكام الأملاك،ج: 3،ص: 201،مط: دار الجیل)
و فی الموسوعۃ الفقیہیۃ: إن للإنسان أن يتصرف في ملكه ما شاء من التصرفات ما لم يضر بغيره ضررا ظاهرا اھ(الإضرار في البيع،ج: 28،ص: 176، مط: دار الصفوۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94990کی تصدیق کریں
0     41
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات