گناہ و ناجائز

کسی کی دعاء قبول نہ ہو اس نیت سے کسی کو حرام کھلانے کا حکم

فتوی نمبر :
95308
| تاریخ :
2026-05-13
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کسی کی دعاء قبول نہ ہو اس نیت سے کسی کو حرام کھلانے کا حکم

اگر کوئی شخص جان بوجھ کر کسی دوسرے شخص کو بار بار حرام یا ناپاک کھانا کھلاتا رہے تاکہ اس کی نماز اور دعائیں قبول نہ ہوں، تو ایسی صورت میں اگر کھانے والے کو اس بات کا علم نہ ہو کہ اسے حرام یا ناپاک چیز کھلائی جا رہی ہے، تو کیا اس شخص کی نمازیں اور دعائیں قبول ہوں گی یا نہیں؟
براہِ کرم اس مسئلے کی شرعی وضاحت فرما دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ جان بوجھ کرکسی کوحرام غذاکھلاناشرعاًناجائزاورگناہ کبیرہ ہے لہذا گرکسی شخص نے دوسرے کوحرام کھلایاہے توکھلانے والاشخص گناہ گارہواہے ،اس پر توبہ واستغفاراورآئندہ کے لیے مکمل اجتناب لازم ہے ،البتہ جوشخص اسے حلال سمجھ کرکھاتارہاتولاعلمی کی وجہ سے اگرچہ وہ وگناہ گارنہ ہوگااوراس کی وجہ سے اس کی نمازوں کی ادائیگی بھی متاثرنہ ہوگی تاہم چونکہ حرام غذاکے اثرات کی وجہ سے قبولیت دعااورروحانیت بہرحال متاثرہوتی ہے ،اس لیے کھانے پینے کی اشیاءمیں احتیاط سے کام لیناچاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

كمافي سنن ابن ماجه»:عن أبي ذر الغفاري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌إن ‌الله ‌قد ‌تجاوز عن أمتي الخطأ، والنسيان، وما استكرهوا عليه» (1/ 659 ت عبد الباقي)
وفی «المبسوط» للسرخسي : قال: عليه الصلاة والسلام «رفع عن أمتي الخطأ، والنسيان، وما استكرهوا عليه»، فهذا يدل على أن ما يكره عليه يكون مرفوعا عنه حكمه، وإثمه، وعينه إلا بدليل۔(24/ 57دارالمعرفۃ ،بیروت)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95308کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات