میں ایک ادارے میں کام کرتا ہوں۔ ادارے نے ملازمین کو صحت کی سہولیات کے لیے Jubilee General Insurance فراہم کی ہوئی ہے۔ کیا یہ اسلام میں جائز ہے؟
اگر میڈیکل کارڈ کام نہ کرے اور ملازمین خود ادائیگی کریں، پھر بعد میں انشورنس کمپنی وہ رقم براہِ راست ملازم کے بینک اکاؤنٹ میں ادا کردے تو اس کا کیا حکم ہے؟
ہر انشورنس کمپنی کے پاس تکافل ونڈو بھی ہوتی ہے۔ اگر ہم یہی سہولیات تکافل ونڈو سے حاصل کریں تو کیا یہ بہتر اختیار ہوگا؟
آخر میں، بعض کمپنیاں صرف تکافل کا کاروبار کرتی ہیں، جیسے Pak-Qatar Takaful۔ کیا ہمیں یہ سہولیات ان کے ذریعے حاصل کرنی چاہییں؟
براہِ کرم اس بارے میں فتویٰ مرحمت فرمائیں تاکہ اگر تکافل شریعت کے مطابق ہو تو میں انشورنس کمپنی کو تبدیل کرکے تکافل اختیار کرسکوں۔
مروجہ انشورنس کا نظام شرعاً سود،قمار اور غرر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاًجائز نہیں،لہذا اپنے اختیار سے انشورنس پالیسی لینے سے اجتناب لازم ہے، البتہ اگر ملازم نے خود اپنی مرضی سے انشورنس پالیسی نہ لی ہو، بلکہ کمپنی کی طرف سے جبری ہوتو ایسی صورت میں ملازم کے لیے علاج کی ان سہولیات سے استفادہ کرنا جائز ہے، مثلاً اگر علاج کے اخراجات ہسپتال یا طبی ادارہ براہِ راست انشورنس کمپنی سے وصول کرے یا کمپنی کے ذریعے وصول کیے جائیں تو اس سے فائدہ اٹھانے میں حرج نہیں۔ البتہ اگر میڈیکل کارڈ استعمال نہ ہو اور ملازم علاج کے اخراجات خود ادا کرے، پھر انشورنس کمپنی وہ رقم براہِ راست ملازم کے بینک اکاؤنٹ میں ادا کرے، تو چونکہ اس صورت میں رقم براہِ راست انشورنس کمپنی سے وصول کی جارہی ہے، اس لیے اصولاً اس رقم کا لینا جائز نہیں، تاہم اگر ملازم کو یہ معلوم ہو کہ اس کے حق میں انشورنس کمپنی کو جتنی پریمیم ادا کی گئی ہے ابھی تک اس سے زائد رقم وصول نہیں کی گئی، تو صرف اسی حد تک رقم وصول کرنے کی گنجائش ہوگی، اس سے زائد نہیں۔ لیکن اگرمستند مفتیانِ کرام کی نگرانی میں چلنے والی تکافل اسکیم میسر ہو، خواہ وہ کسی کمپنی کی تکافل ونڈو کے ذریعے ہو یا کسی خالص تکافل ادارے کے ذریعے، تو روایتی انشورنس کے بجائے اسے اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ تکافل مروجہ انشورنس کا شرعی متبادل ہے۔
کما فی التنزیل العزیز: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَo فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَo(البقرة، الایة: 278، 279)
وفی فقه البیوع: أما عملیۃ التأمین، فعملیۃ تشتمل علی الربوا أو علی الغرر أو علیھما کما سیأتی إن شاء اللہ تعالی. و بھذا أفتی (1066/2، ط: مکتبة دار العلوم کراتشی)
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0