گناہ و ناجائز

عاریت پر لئے ہوئے گھر میں تعمیرات خرچ کا مطالبہ کرنا

فتوی نمبر :
95553
| تاریخ :
2026-05-21
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

عاریت پر لئے ہوئے گھر میں تعمیرات خرچ کا مطالبہ کرنا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں کسی گھر میں عاریت کے طور پر رہ رہا ہوں اور میں نےاس کی اجازت سے اپنے پیسوں سے گھر مرمت کی تھی، اب اس شخص کا انتقال ہوگیا ہے اور اس کے ورثاء مجھے سے وہ گھر لے رہے ہیں ،تو کیا میں ان سے اس گھر پر خرچ کئے ہوئے پیسوں کا مطالبہ کرسکتا ہوں پیسے تقریباً دس لاکھ ہے جس کی وجہ سے گھرکی قیمت میں بھی اضافی ہوا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے واقعۃ مالک مکان کی اجازت سےذاتی رقم سے مکان میں ایسی تعمیرات وغیرہ کی ہوجومکان کی حفاظت یااسے قابل منفعت بنانے کے لیے ضروری ہواوراس کواب مکان سے علیحدہ کرنا ممکن نہ ہو یا اس کوعلیحدہ کرنے کی صورت میں نقصان لازم آتا ہو، تو اس صورت میں مرحوم مالک مکان کے ورثاءکو ان تعمیرات کی مناسب قیمت سائل کو ادا کرنالازم ہے۔تاہم اگریہ اخراجات اس مکان کو قابل منفعت بنانے کے لیے ضروری نہ ہو بلکہ سائل نے اپنی خواہش کے مطابق اس کی تزئین وآرائش کرنے کے لیے کیے ہوں توایسی صورت میں سائل اس رقم کامطالبہ نہیں کرسکتاالایہ کہ سائل نے مالک مکان سے یہ رقم وصول کرنے کی شرط عائد کی ہو۔لہٰذاسائل اور مرحوم کےورثاء کو باہمی رضامندی سے کوئی بھی مناسب صورت اختیارکرکے اس نزاع کوختم کرناچاہیے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الفتاوى الهندية : وسئل عن مستأجر أحدث في المستأجر بناء أو غرسا ثم انقضت مدة الإجارة هل يؤمر برفع ذلك قال يؤمر برفع ذلك قلت قيمته أو كثرت إن لم يأخذ المالك بالقيمة قيل فإن كان فعل بإذن المالك قال، وإن كان فعل بإذنه قال وذكر في الشرب أن من يرضى بإجراء غيره الماء في أرضه أو بمروره في أرضه فأطلق له ذلك ثم بدا له أن يمنع من ذلك يكون له المنع لأنه غير لازم. كذا في النسفي.(4 / 523)
وفی مجلة الأحكام العدلية : (المادة 530) التعميرات التي أنشأها المستأجر بإذن الآجر إن كانت عائدة لإصلاح المأجور وصيانته عن تطرق الخلل كتنظيم الكرميد (أي القرميد وهو نوع من الآجر يوضع على السطوح لحفظه من المطر) فالمستأجر يأخذ مصروفات هذه التعميرات من الآجر وإن لم يجر بينهما شرط على أخذه وإن كانت عائدة لمنافع المستأجر فقط كتعمير المطابخ فليس للمستأجر أخذ مصروفاتها ما لم يذكر شرط أخذها بينهما , (المادة 531) لو أحدث المستأجر بناء في العقار المأجور أو غرس شجرة فالآجر مخير عند انقضاء مدة الإجارة إن شاء قلع البناء أو الشجرة وإن شاء أبقى ذلك وأعطى قيمته كثيرة كانت أم قليلة. (1 / 100)
وفی الهداية في شرح بداية المبتدي : قال: "ويجوز أن يستأجر الساحة؛ ليبني فيها أو؛ ليغرس فيها نخلا أو شجرا"؛ لأنها منفعة تقصد بالأراضي "ثم إذا انقضت مدة الإجارة لزمه أن يقلع البناء والغرس ويسلمها إليه فارغة"؛ لأنه لا نهاية لهما وفي إبقائهما إضرارا بصاحب الأرض۔۔۔قال: "إلا أن يختار صاحب الأرض أن يغرم له قيمة ذلك مقلوعا ويتملكه فله ذلك" وهذا برضا صاحب الغرس والشجر، إلا أن تنقص الأرض بقلعهما فحينئذ يتملكهما بغير رضاه. قال: "أو يرضى بتركه على حاله فيكون البناء لهذا والأرض لهذا"؛ لأن الحق له فله أن لا يستوفيه۔(3 / 234)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95553کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات