گناہ و ناجائز

سن کوٹہ میں حقیق بیٹے کے بجائے لے پالک کو بیٹے کونوکری دلوانا

فتوی نمبر :
95758
| تاریخ :
2026-05-26
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

سن کوٹہ میں حقیق بیٹے کے بجائے لے پالک کو بیٹے کونوکری دلوانا

اگر ایک شخص “علی” کے چار حقیقی بیٹے ہوں، اور اس نے بچپن میں ایک اور بچے “ج” کی پرورش کی ہو، جسے شناختی کارڈ اور تعلیمی ریکارڈ میں بھی اپنا بیٹا ظاہر کیا گیا ہو، پھر علی بیماری کی وجہ سے سرکاری ملازمت سے میڈیکل ریٹائرمنٹ لے لے، اور حکومتی پالیسی کے مطابق اس کی جگہ اس کے بیٹوں میں سے کسی ایک کو ملازمت ملنی ہو، تو سوال یہ ہے کہ کیا اس ملازمت کا حق علی کے حقیقی بیٹوں میں سے کسی کا بنتا ہے یا “ج” کا بھی بن سکتا ہے؟ اور کیا اسلام، شریعت اور پاکستانی قانون علی کو یہ اجازت دیتے ہیں کہ وہ اس ملازمت کے لیے “ج” کو نامزد کرے، حالانکہ وہ اس کا حقیقی بیٹا نہیں؟ اور اگر علی یہ کہے کہ میں نے ”ج “ ہی کو نامزد کرنا ہے تو پھر ”ج“ کے بھرتی ہونے کے بعد وہ جتنی تنخواہ یا دیگر مراعات اسی نوکری سے حاصل کرے، تو کیا یہ ”ج“ کے لئے حلال ہوگا یا نہیں؟ نیز علی کے ایسا فیصلہ کرنے پر کیا علی گنہگار ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی بچہ کو گود لینے کی وجہ سے وہ بچہ گود لینے والے کا حقیقی بیٹا نہیں بنتا اور نہ ہی اس پر حقیقی بیٹے والے احکام لاگو ہوتے ہیں، بلکہ وہ اجنبی ہی رہتا ہے، چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر حکومتی قوانین کے مطابق مسمیٰ علی کا حقیقی بیٹا ہی اس ملازمت کا اہل ہو تو علی کا اپنے لے پالک بیٹے ”ج“ کو اس ملازمت کے لیے نامزد کروانایا سرکاری کاغذات وغیرہ میں اس کو اپنا حقیقی بیٹا درج کروانا شرعاً وقانوناً جائز نہیں، بلکہ گناہ کبیرہ ہے جس سے بہر صورت دونوں کو اجتناب لازم ہے۔
تاہم اس کے باوجود اگر علی اس ملازمت کے لیے ”ج“ کو نامزد کروادے اور کاغذی کاروائی مکمل ہونے پر ”ج“ اس ملازمت کے لیے نامزد ہوجائے اور اس کام کی صلاحیت بھی اس میں موجود ہو اور مکمل دیانت داری کے ساتھ وہ اپنا فریضہ سرانجام دے تو اس کو ملنے والی تنخواہ اور مراعات حلال ہوں گی، اس کو حرام نہیں کہا جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

قال الله سبحانه وتعالى: ﴿وَمَا جَعَلَ أَدۡعِيَآءَكُمۡ أَبۡنَآءَكُمۡۚ ذَٰلِكُمۡ قَوۡلُكُم بِأَفۡوَٰهِكُمۡۖ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلۡحَقَّ وَهُوَ يَهۡدِي ٱلسَّبِيلَ ٤ ٱدۡعُوهُمۡ لِأٓبَآئِهِمۡ هُوَ أَقۡسَطُ عِندَ ٱللَّهِۚ فَإِن لَّمۡ تَعۡلَمُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ فَإِخۡوَٰنُكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمۡۚ وَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٞ فِيمَآ أَخۡطَأۡتُم بِهِۦ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتۡ قُلُوبُكُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمًا ٥﴾ [الأحزاب: 4-5]
وفي صحيح مسلم: «عن أبي هريرة؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من حمل علينا السلاح فليس منا. ومن غشنا فليس منا".» (1/ 99 ت عبد الباقي)
وفي البحر الرائق: «وفي المحيط ومهر البغي في الحديث هو أن يؤاجر أمته على الزنا وما أخذه من المهر فهو حرام عندهما، وعند الإمام إن أخذه بغير عقد بأن زنى بأمته، ثم أعطاها شيئا فهو حرام؛ لأنه أخذه بغير حق وإن استأجرها ليزني بها، ثم أعطاها مهرها أو ما شرط لها لا بأس بأخذه؛ لأنه في إجارة فاسدة فيطيب له وإن كان السبب حراما.»(8/ 22)
وفي الفتاوى الهندية: «والأجير الخاص من يستحق الأجر بتسليم نفسه وبمضي المدة ولا يشترط العمل في حقه لاستحقاق الأجر» (4/ 500)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالوہاب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95758کی تصدیق کریں
0     29
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات