السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، جناب مفتی صاحب ! میں اٹلی میں روزگار کے سلسلہ میں مقیم ہوں اور کھیتی باڑی کا کام کرتا ہوں، میرے پاس اپنی گاڑی ہے اور میں اپنے ساتھ اور لوگوں کے لیے بھی کام تلاش کرتا ہوں، میں جن لوگوں کو اپنے ساتھ کام پہ لے کے جاتا ہوں، انکی مزدور ی بھی میں خود طے کرتا ہوں، جبکہ کام کے مالک سے میں زیادہ پیسے وصول کرتا ہوں تو کیا ایسا کرنا شریعت میں جائز ہے یا نہیں؟ مہربانی فرما کر میری رہنمائی فرمائیں، شکریہ، جزاک اللہ خیرا
مزید وضاحت:السلام علیکم! سب سے تو آپ کی میری رہنمائی فرمائی جس کے لیے میں آپ کا بے حد مشکور ہوں جیسا کہ میرا سوال تو آپ جانتے ہی ہیں تو میں مزید وضاحت کے لیے آپ سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں میں جن مزدور کو اپنے ساتھ کام پہ لے کر جاتا ہوں انکے ساتھ میں نے 7€ گھنٹے کے طے کیے ہوئے ہیں جب کے مالک سے میں ایک یا دو یورو گھنٹے کے زیادہ وصول کرتا ہوں جب کہ گورنمنٹ قانون بھی مجھے یہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ جو پیسے مجھے ان مزدور سے بچتے ہیں میں ان پر ٹیکس نہیں دیتا اور نہ ہی یہاں کے قانون کے مطابق میری لیگل انکم مین شمار ہوتے ہیں جب تک میں ان پیسوں پر ٹیکس ادا نہ کروں تو کیا شرعی یہ پیسے میرے لیے جائز ہوں گے
سائل اگر مالک کے ساتھ تمام معاملات خود طے کرتا ہو اور ساری ذمہ داری سائل ہی کی ہو ، ان مزدوروں کی کوئی ذمہ داری نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل کے لیے مالک سے زیادہ پیسے لیکر اپنے ماتحت مزدوروں کو طے شدہ پیسے دینا شرعاً جائز ہے۔ تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو مکرر سوال پوری وضاحت کے ساتھ لکھ کر دوبارہ ارسال کردیں تو ان شاء اللہ تعالیٰ غور وفکر کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا۔
ففی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: «وللأجير أن يعمل بنفسه وأجرائه إذا لم يشترط عليه في العقد أن يعمل بيده؛ لأن العقد وقع على العمل، والإنسان قد يعمل بنفسه وقد يعمل بغيره؛ ولأن عمل أجرائه يقع له فيصير كأنه عمل بنفسه، إلا إذا شرط عليه عمله بنفسه؛ لأن العقد وقع على عمل من شخص معين، والتعيين مفيد؛ لأن العمال متفاوتون في العمل فيتعين فلا يجوز تسليمها من شخص آخر من غير رضا المستأجر» (4/ 208)