گناہ و ناجائز

والدہ کا بیٹے سے بلاوجہ ناراض ہونا

فتوی نمبر :
95778
| تاریخ :
2026-05-28
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

والدہ کا بیٹے سے بلاوجہ ناراض ہونا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

حضرت مفتی صاحب، میرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک ماں اپنے بیٹے سے اس وجہ سے ناراض ہو جائے کہ اس نے ادب کے ساتھ صحیح بات کی ہو اور ظلم یا ناانصافی پر آواز اٹھائی ہو، تو ایسی صورت میں بیٹے کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟

میری شادی کو بیس سال ہو چکے ہیں۔ ان سالوں میں میرے شوہر نے اپنی والدہ کی بہت خدمت، صبر اور برداشت کی۔ گھر کے بہت سے معاملات میں ناانصافی اور سخت رویہ ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی آواز بلند نہیں کی تاکہ والدہ کی دل آزاری نہ ہو۔

لیکن اب ایک معاملے میں، جب میرے میکے والوں کے ساتھ بار بار بے رخی اور بے عزتی ہوئی، تو میرے شوہر نے پہلی بار ادب کے ساتھ اپنی والدہ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ رویہ درست نہیں۔ اس کے بعد سے والدہ ان سے سخت ناراض ہیں، بات نہیں کرتیں اور معاف بھی نہیں کر رہیں۔

میرا سوال یہ ہے کہ:

اگر بیٹے نے حق اور انصاف کی بات کی ہو تو کیا وہ گناہگار ہوگا؟

اگر ماں ضد، غرور یا انا کی وجہ سے معاف نہ کرے تو بیٹے پر شرعاً کیا ذمہ داری باقی رہتی ہے؟

کیا بیٹا اپنی والدہ سے ادب اور تعلق قائم رکھتے ہوئے، ظلم یا ناانصافی میں ان کی بات ماننے سے انکار کر سکتا ہے؟

ایسی صورت میں بیٹے کو کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ نہ ماں کی نافرمانی ہو اور نہ بیوی و گھر والوں پر ظلم ہو؟

قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔

جزاکم اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح هوكه والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، ادب اور خدمت شریعت کا مؤکد حکم ہے، تاہم ان کی اطاعت صرف معروف اور جائز امور میں واجب ہے۔ لہٰذا اگر بیٹے نے ادب، نرمی اور احترام کے ساتھ کسی ظلم، ناانصافی یا نامناسب رویے کی نشاندہی کی ہو اور اس کا مقصد اصلاح ہو،والدہ کی تحقیر یا دل آزاری نه هو، تووالدہ کااس بات پرناراض ہونادرست نہیں اور محض حق بات کہنے کی وجہ سے بیٹا گناہگار نہیں ہوگا۔
چنانچه اگر والدہ ضد، غصہ یا انا کی بنا پر ناراض رہیں اور معاف نہ کریں، تو بیٹے کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ان سے تعلق نہ توڑے، ان کی خدمت، خیر خواہی، سلام، مزاج پرسی اور دلجوئی کا سلسلہ جاری رکھے، معذرت اور نرمی سے ان کا دل جیتنے کی کوشش کرتا رہے، لیکن ظلم، گناہ یا ناانصافی میں ان کی بات ماننا اس پر لازم نہیں۔ ايساكرنے سے وه والده كا نافرمان شمارنه هوگا،اورعندالله بھی قابل مؤاخذه نهيں قرارپائے گا،ان شاء اللہ۔

مأخَذُ الفَتوی

کماقال اللہ تعالی فی التنزیل :وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (سورۃ الأسراءآیت نمبر23)
وفی التفسیرالقرطبی تحت ھذہ الأیة۔۔۔۔روى الصحيح عن أبي هريرة قال : جاء رجل إلى النبي - صلى الله عليه وسلم - فقال : من أحق الناس بحسن صحابتي ؟ قال : أمك قال : ثم من ؟ قال : ثم أمك قال : ثم من ؟ قال : ثم أمك قال : ثم من ؟ قال : ثم أبوك . فهذا الحديث يدل على أن محبة الأم والشفقة عليها ينبغي أن تكون ثلاثة أمثال محبة الأب ; لذكر النبي - صلى الله عليه وسلم - الأم ثلاث مرات وذكر الأب في الرابعة فقط .(الجامع لاحکام القرآن 10/239ط ۔دارالکتب ،القاھرۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95778کی تصدیق کریں
0     4
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات