السلام علیکم ، مفتی صاحب! جب میری عمر تقریباً 12 سال تھی تو مشت زنی کی وجہ سے منی خارج ہوئی تھی، لیکن مجھے اس وقت بلوغت کا حکم معلوم نہیں تھا۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ آدمی صرف احتلام (خواب میں منی نکلنے) سے بالغ ہوتا ہے۔ اسی غلط فہمی کی وجہ سے میں نے تقریباً دو سال تک رمضان کے روزے جان بوجھ کر توڑ دیے، کھانا اور پانی کھا پی لیا کرتا تھا، البتہ کبھی کبھار 4 یا 5 روزے رکھ لیتا تھا۔ پھر 2025 میں رمضان کے آخری عشرے کے 10 روزے رکھے تھے۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ:
1. میرے اوپر کتنے روزوں کی قضا لازم ہے؟
2. کتنے روزوں کا کفارہ لازم ہے؟
براہِ کرم صحیح شرعی رہنمائی فرما دیں۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق جب سائل کو بارہ سال کی عمر میں مشت زنی کے نتیجہ میں منی نکلنے کا یقین ہوگیا تھا تو سائل شرعاً بالغ ہوچکا تھا، لہذا سائل نے جتنے روزے رکھ کر مسئلہ سے لاعلمی کی وجہ سے توڑے ہیں، ان تمام روزوں کی قضا اور ایک کفارہ لازم ہے، جبکہ روزوں کا کفارہ یہ ہے کہ دو ماہ مسلسل روزے رکھے جائیں، اگر یہ تسلسل کسی بھی وجہ (خواہ بیماری ہو یا اور کوئی عذر ہو) سے ٹوٹ جائے تو نئے سرے سے روزے رکھنا لازم ہوں گے، البتہ اگر کسی مستقل بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے مسلسل روزے رکھنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں روزوں کے بجائے ساٹھ مسکینوں کو صبح شام پیٹ بھر کر دو وقت کا کھانا کھلادیا جائے یا ہر مسکین کو ایک صدقہ فطر کے برابر رقم دیدی جائے تو اس سے بھی کفارہ ادا ہوجائے گا۔
كما في تنزيل العزيز: ﴿فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ مِن قَبۡلِ أَن يَتَمَآسَّاۖ فَمَن لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ فَإِطۡعَامُ سِتِّينَ مِسۡكِينٗاۚ ذَٰلِكَ لِتُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۚ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِۗ وَلِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [المجادلة: 4]
وفي الفتاوى الهندية: «إذا أكل متعمدا ما يتغذى به أو يتداوى به يلزمه الكفارة، وهذا إذا كان مما يؤكل للغذاء أو للدواء فأما إذا لم يقصد لهما فلا كفارة وعليه القضاء كذا في خزانة المفتين» (1/ 205)
وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: «ولو جامع في رمضان متعمدا مرارا بأن جامع في يوم ثم جامع في اليوم الثاني ثم في الثالث ولم يكفر فعليه لجميع ذلك كله كفارة واحدة عندنا، وعند الشافعي عليه لكل يوم كفارة، ولو جامع في يوم ثم كفر ثم جامع في يوم آخر فعليه كفارة أخرى في ظاهر الرواية، وروى زفر عن أبي حنيفة أنه ليس عليه كفارة أخرى، ولو جامع في رمضانين ولم يكفر للأول فعليه لكل جماع كفارة في ظاهر الرواية.
وذكر محمد في الكيسانيات أن عليه كفارة واحدة وكذا حكى الطحاوي عن أبي حنيفة، وجه قول الشافعي أنه تكرر سبب وجوب الكفارة وهو الجماع عنده، وإفساد الصوم عندنا، والحكم يتكرر بتكرر سببه وهو الأصل إلا في موضع فيه ضرورة كما في العقوبات البدنية وهي الحدود لما في التكرر من خوف الهلاك ولم يوجد ههنا فيتكرر الوجوب ولهذا تكرر في سائر الكفارات وهي كفارة القتل، واليمين، والظهار.» (2/ 101)
وفي الفتاوى الهندية: «بلوغ الغلام بالاحتلام أو الإحبال أو الإنزال، والجارية بالاحتلام أو الحيض أو الحبل، كذا في المختار. والسن الذي يحكم ببلوغ الغلام والجارية إذا انتهيا إليه خمس عشرة سنة عند أبي يوسف ومحمد - رحمهما الله تعالى - وهو رواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وعليه الفتوى، وعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ثماني عشرة سنة للغلام وسبع عشرة سنة للجارية، كذا في الكافي. وأدنى مدة البلوغ بالاحتلام ونحوه في حق الغلام اثنتا عشرة سنة، وفي الجارية تسع سنين،» (5/ 61)
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0