السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محترم و مکرم مفتی صاحبانِ کرام دامت برکاتهم—
عرض یہ ہے کہ ہمارے شہر تاشیلیک (میانمار) میں ایک مسجد اور ایک ہی میت و رفاہی کمیٹی قائم ہے۔ اس کمیٹی کی طرف سے چند شرائط مقرر کرکے کارڈ جاری کیے گئے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
(۱) صرف وہی خاندان میت اور سماجی امور میں تعاون و سہولیات کے مستحق ہوں گے جو اس کمیٹی کے کارڈ ہولڈر ہوں گے۔
(۲) کمیٹی کے اراکین پر ماہانہ فیس مقرر ہے، جس کی پابندی لازم قرار دی گئی ہے، اور اگر کوئی شخص مسلسل تین ماہ تک فیس ادا نہ کرے تو اسے کمیٹی سے خارج کردیا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ ہر گھرانے سے ماہانہ (۵۰) باٹ وصول کیے جاتے ہیں، جبکہ ابتداء میں (۱۰۰) باٹ بطور رجسٹریشن لیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ رقم ادا نہ کرے یا کمیٹی میں شامل نہ ہو تو اسے دیگر اراکین کی طرح تعاون اور سہولیات حاصل نہیں ہوتیں۔
ایک شخص نے کارڈ لیتے وقت (۱۰۰) باٹ خوش دلی اور رضامندی کے بغیر گویا پھینک کر ادا کیے۔
نیز شہر کے امام صاحب اور کمیٹی کے بعض ذمہ داران کی جانب سے مسجد میں کارڈ دیتے وقت یہ الفاظ بھی کہے جاتے ہیں:
"اگر یہ کارڈ نہیں لیا تو پھر میت کو خود اٹھانا اور خود دفن کرنا پڑے
کسی مسلمان میت کو غسل دینا، جنازہ پڑھنا، اٹھانا اور تدفین کا انتظام کرنا مسلمانوں پر فرضِ کفایہ ہے،اس لیے کسی رفاہی کمیٹی کاحصہ بنے بغیربھی اہل محلہ اوردیگرمسلمانوں کےلیےیہ ذمہ داری سرانجام دینالازم اورضروری ہے۔ البتہ اگر رفاہی کمیٹی باہمی تعاون اوروقف ماڈل كے بنيادپراصول وضوابط کوملحوظ رکھتےہوئےاضافی سہولیات فراہم کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر رجسٹریشن فیس اور ماہانہ چندہ مقرر کرے، اور اس کے عوض مخصوص انتظامی و مالی خدمات مہیا کرے، تو اصلِ چندہ اور رکنیت جائز ہے۔ تاہم کسی مسلمان کو محض فیس ادا نہ کرنے کی وجہ سے غسل، جنازہ اور تدفین جیسے شرعی حقوق سے محروم کرنا یا یہ کہنا کہ: "کارڈ نہ لیا تو اپنی میت خود اٹھانا اور خود دفن کرنا"،قطعاً مناسب نہیں،بلکہ ایک لازم ذمہ داری میں کوتاہی کاارتکاب ہے۔
نیز جس شخص نے رجسٹریشن فیس مجبوری اور ناگواری کے ساتھ ادا کی ہو، اگر حقیقتاً اس کے پاس کوئی متبادل نہ تھا اور عمومی دینی سہولیات اسی پر موقوف کر دی گئی تھیں، تو اس پر گناہ نہیں، البتہ کمیٹی کو اپنے نظام میں اصلاح کرنی چاہیے اور رفاہی خدمات کو شرعی اصولوں کے مطابق ترتیب دینا چاہیے۔
كمافي «مسند أحمد» : عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، قال: كنت آخذا بزمام ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم في أوسط أيام التشريق، أذود عنه الناس، فقال: " يا أيها الناس، هل تدرون في أي يوم أنتم؟ وفي أي شهر أنتم (2)؟ وفي أي بلد أنتم؟ " قالوا: في يوم حرام، وشهر حرام، وبلد حرام. قال: " فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا، إلى يوم تلقونه. ثم قال: " اسمعوا مني تعيشوا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنه لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه، ألا وإن كل دم ومال ومأثرة كانت في الجاهلية تحت قدمي هذه إلى يوم القيامة۔الخ(34/ 299 ط الرسالة)
وفي الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» : (وإن لم يكن ثمة من تجب عليه نفقته ففي بيت المال، فإن لم يكن) بيت المال معمورا أو منتظما (فعلى المسلمين تكفينه) فإن لم يقدروا سألوا الناس له ثوبا، فإن فضل شئ رد للمصدق إن علم، وإلا كفن به مثله وإلا تصدق به،مجتبى.(ص119)
وفي حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» تحت قوله : (فإن لم يكن بيت المال معمورا) أي بأن لم يكن فيه شيء أو منتظما أي مستقيما بأن كان عامرا ولا يصرف مصارفه ط (قوله فعلى المسلمين) أي العالمين به وهو فرض كفاية يأثم بتركه جميع من علم به(2/ 206)