کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل میڈیا کا اور کیمروں کا دور ہے، بغیر اجازت کے ادارے والے یا کوئی اور لوگوں کی تصاویر، ویڈیو نکال لیتے ہیں ، جس پر بعد میں ان کی تصاویر کو ایڈٹ کر کے بلیک میل کرتے ہیں اور عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں ، ان میں کئی چیزیں شامل کر کے بار بار لوگوں کو بلیک میل کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے ، شریعت میں اس کی کیا حیثیت ہے ؟ قرآن و حدیث سے مثال دیکر واضح اور تفصیل سے جواب دیں۔
واضح ہو کہ کسی بھی ادارے یا عام فرد کا لوگوں کی اجازت کے بغیر ان کی تصاویر یا ویڈیوز بنانا، پھر بعد میں ان تصاویر کو ایڈٹ کر کے انہیں بلیک میل کرنا اور ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا، اور پھر مزید چیزیں شامل کر کے بار بار بلیک میل کرنا سخت ناجائز اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ ایسے افراد پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس قبیح عمل پر سچے دل سے توبہ و استغفار کریں، اور اگر وہ اپنے اس گھناؤنےعمل سے باز نہ آئیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
كما في سنن الترمذي:«عن ابن عمر، قال: صعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر، فنادى بصوت رفيع، قال: "يا معشر من أسلم بلسانه ولم يفض الإيمان إلى قلبه، لا تؤذوا المسلمين، ولا تعيروهم، ولا تتبعوا عوراتهم، فإنه من تتبع عورة أخيه المسلم، تتبع الله عورته، ومن يتبع الله عورته يفضحه ولو في جوف رحله".قال: ونظر ابن عمر يوما إلى البيت أو إلى الكعبة، فقال: ما أعظمك وأعظم حرمتك والمؤمن أعظم حرمة عند الله منك»۔اه(«باب ما جاء في تَعْظيمِ المُؤْمنِ،ج:4،ص:122،ط:دار الرسالۃ العالمیۃ)
و فی صحیح البخاری:«من تحلم بحلم لم يره كلف أن يعقد بين شعيرتين، ولن يفعل، ومن استمع إلى حديث قوم وهم له كارهون، أو يفرون منه، صب في أذنه الآنك يوم القيامة، ومن صور صورة عذب، وكلف أن ينفخ اھ(باب من كذب في حلمه،ج:9،ص:42، ط :السلطانية - )
و فی المبسوط للسرخسی:وحجتنا في ذلك قوله - عليه السلام - «لا ضرر ولا ضرار في الإسلام»، وقال «ألا من غشنا فليس منا»(ج:25،ص:12،ط:دار المعرفة - بيروت)
و في موسوعة الأخلاق الإسلامية:وقال السمرقندي: (ليس شيء من الذنوب أعظم من البهتان، فإن سائر الذنوب يحتاج إلى توبة واحدة، وفي البهتان يحتاج إلى التوبة في ثلاثة مواضع. وقد قرن الله تعالى البهتان بالكفر، فقال تعالى: فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور [الحج: ٣٠]...وقال النووي (البهت حرام).اه(باب حكم الافتراء والبهتان،ج:2،ص:126، - ط:الدرر السنية )