اگر ایک بیٹی یا بہن گھر سے بھاگ کر نکاح کرتی ہے اور اس کی عمر 17 سال ہو، پھر چاہے اس کا پہلے سے کہیں رشتہ طے ہو یا نہ ہو، اور وہ اپنے ابو، امی، بھائیوں اور بہنوں کی عزت کا بھی خیال نہ کرے۔
پھر وہ الٹا میرے ابو اور بھائی کے خلاف پولیس کو یہ بیان دیتی ہے کہ مجھے میرے ابو اور بھائی جان سے مارتے تھے، اور اس طرح ان پر جھوٹے الزامات لگاتی ہے۔
گھر سے بھاگنے کے ایک سال بعد وہی شخص، جس کے ساتھ وہ بھاگی تھی، اسے طلاق دے دیتا ہے۔ پھر وہ دوسری جگہ نکاح کر لیتی ہے، بغیر بتائے ہوئے، وہاں سے بھی تقریباً تین ماہ بعد طلاق ہو جاتی ہے۔
گھر سے بھاگنے کے بعد سے گھر میں کسی نے بھی اس سے رابطہ نہیں کیا۔ ہم نے اسی دن سے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں۔
اب اسے پھر طلاق ہو چکی ہے اور وہ اکیلی رہتی ہے۔ اسے اتنی بھی شرم و حیا نہیں کہ وہ ہمارے گھر کے پاس آ کر رہنے لگی ہے۔
روزانہ میرے ابو کو اس کی وجہ سے رشتہ داروں کے طعنے سننے پڑتے ہیں اور وہ ذلیل ہوتے ہیں۔
میرا ضمیر اور غیرت اسے قبول نہیں کرتے۔ میرے دل میں بار بار یہ خیال آتا ہے کہ اسے جان سے مار دوں۔
اس پر شرعی حکم کیا ہے؟
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، تو مذکورہ لڑکی کا اپنے والدین اور اہلِ خانہ کی عزت و آبرو کو پامال کرتے ہوئے گھر سے بھاگ کر نکاح کرنا،اور اپنے والد اور بھائی پر جھوٹے الزامات لگانا، بے حیائی اور بہتان تراشی پر مبنی ہونے کی وجہ سے سخت گناہ اور نہایت قابلِ مذمت عمل ہے، جس پر اسے اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کرنی چاہیے۔ تاہم ان افعال کی بنا پر سائل یا کسی دوسرے شخص کو اسے قتل کرنے کا حق حاصل نہیں۔ لہٰذا سائل کے لیے اسے جان سے مارنا توشرعاً جائز نہیں۔ البتہ اگر اس کی اکیلی رہائش کے نتیجے میں اس کی عفت و عصمت محفوظ نہ رہے، اور سمجھانے کے باوجود بھی وہ اپنے طرزِ عمل سے باز نہ آئے، تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہےیا برادری کی سطح پر اس کو روکنے کی تدبیر کی جاسکتی ہے۔
کما فی التنزیل العزیز: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾ [الإسراء: 33].
وفی صحيح البخاري- طوق النجاة: 6878 - حدثنا عمر بن حفص حدثنا أبي حدثنا الأعمش عن عبد الله بن مرة عن مسروق عن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله إلا بإحدى ثلاث النفس بالنفس والثيب الزاني والمارق من الدين التارك للجماعة (9/ 5)