کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلے میں کہ میں مسمٰی ... نے اپنے بیٹے مسمٰی ..... کا نکاح ایک مطلقہ عورت سے کیا تھا، اس کے ساتھ دو بچے بھی تھے ،میری بیوی نے اس نیت سے نکاح کرایا تھا کہ چلو بے سہارا عورت ہے اس کا سہارا ہو جائے گا ،لیکن وہ صحیح سے گھر نہ چلا سکی اور حالات بہت خراب ہو گئے ہیں اور ہمارے گھر سے بغیر اجازت کے نکل گئی تھی جن لوگوں نے ہمارا رشتہ کرایا تھا انہوں نے طلاق کا مطالبہ کیا ،لڑکی نے مہر معافی کے عوض طلاق کا مطالبہ کیا، پھر رشتہ کرانے والوں نے کچھ پیسوں کا مطالبہ کیا، پھر ہم نے ان کے مطالبے پر تین لاکھ روپے دیے۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ اور اب وہی لوگ دوبارہ ہم پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ ہم حلالہ کی ترتیب بنا کر دوبارہ آپ لوگوں کے بیٹے سے نکاح کرا دینگے لیکن ہم اب دوبارہ یہ رشتہ نہیں کرنا چاہتے ہیں ،کیا وہ لوگ ہمیں مجبور کر سکتے ہیں ؟ کیا میرے بیٹے پر واپس نکاح کرنا لازم ہے؟ جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
نوٹ: سوال کیساتھ منسلکہ اسٹام پیپر پر تین طلاقیں مذکور الفاظ ''میں مسمی......اپنی بیوی مسماۃ .......کو طلاق دیتا ہوں ''تین دفعہ بمع دستخط کے موجود ہیں ۔
صورتِ مسؤلہ میں سائل کے بیٹے نے اپنی بیوی کو تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ پر دستخط کر کے تحریرا ًتین طلاقیں دے دی ہوں تو اس سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی، جبکہ ان طلاقوں کے وقو ع کے بعد جانبین میاں بیوی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں ،کسی کیلئے دوسرے فریق کو دوبارہ( اگرچہ حلالۂ شرعیہ کے بعد ہو ) اس کی مرضی کے بغیر رشتہ بحال کرنے میں مجبور کرنے کا اختیار حاصل نہیں، اس لیے سائل کی سابقہ بہو اور اس کے گھر والوں کو اپنے اس ناجائز مطالبے سے احتراز لازم ہے۔
كما في القران الكريم: ﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ﴾ [سورة البقرة: ٢٣٠]۔
وفي رد المحتار: (قوله: كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب، (إلى قوله) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو اهـ [كتاب الطلاق، مطلب في الطلاق بالكتابة، فروع، ج:3 ص:246 ط: ايچ ايم سعيد ]۔
وفي الهداية: وطلاق البدعة أن يطلقها ثلاثا بكلمة واحدة أو ثلاثا في طهر واحد فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا اهـ [كتاب الطلاق، باب طلاق السنة، ج:1 ص:221 ط: دار إحياء التراث العربي بيروت ]۔