میرا سوال یہ ہے کہ جس عورت کا خاوند مر گیا ہو اور وہ حاملہ ہو، تو اس کی عدت کب ختم ہوگی؟ اور بچے کی پرورش کا حق کسے ملے گا؟ کیا عدت کے بعد وہ دوسری شادی کر سکتی ہے؟
جس عورت کا خاوند انتقال کر جائے اور وہ حاملہ ہو توبچے کی پیدائش تک اسکی عدت ہوگی چنانچہ جب بچہ پیدا ہوجائے تو اس کی عدت مکمل ہوجائے گی ،جبکہ پیدا ہونے والا بچہ اگر لڑکا ہو ،تو اس کی عمر سات سال ہونے اور اگر لڑکی ہو تو نو سال عمر ہونے تک اسکی پرورش کا حق اس کی ماں کو حاصل ہوگا ،بشرطیکہ اس دوران وہ بچے کے غیر ذی رحم محرم سے شادی نہ کرے جبکہ عدت پوری ہونے کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
کما فى القرأن الكريم: واولات الاحمال اجلہن ان یضعن حملہن....ال(الطلاق، الایة: 4)
و فى الدر المختار:(و) في حق (الحامل) مطلقا ولو أمة، أو كتابية، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات، أو طلقها تعتد بالوضع جواهر الفتاوى (وضع) جميع (حملها)۔"(كتاب الطلاق، باب العدة: 3 /511، ط: سعید)
وفی الهندية:«والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين.(الباب السادس عشر فى الحضانة، ج:1،ص:542)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0