السلام علیکم ! اسٹیٹ لائف انشورنس کے بارے میں معلوم کرنا ہے کہ کیا انشورنس پالیسی لینا جائز ہے؟ یا سود کے زمرے میں آتا ہے ؟ انشورنس پالیسی لینی چاہیے یا نہیں؟ مہربانی فرما کر میری رہنمائی فرمائیں۔
انشورنس ایک ایسا معاملہ ہے جو انشورنس کے طالب اور انشورنس کمپنی کے درمیان ہوتا ہے، جس میں انشورنس کمپنی کسٹمر سے ایک مقررہ شرح فیصد کے حساب سے اصل رقم کے ساتھ مزید رقم بطور سوددیتی ہے۔
انشورنس کمپنی کا مقصد اس رقم کے جمع کرنے سے یہ ہوتا ہے کہ اسے دوسرے لوگوں کو بطور قرض دے کر ان سے اعلیٰ شرح پر سود حاصل کرے یا کسی تجارت میں لگا کر یا کوئی جائیداد خرید کر اس سے منافع حاصل کرے، اس حقیقت کے اعتبار سے انشورنس کا معاملہ ایک سودی کاروبار کا معاملہ ہے جو بینک کے کاروبار کے مثل ہے۔ دونوں میں فرق صرف شکل وصورت کا ہے حقیقت کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ حقیقت میں اگر فرق ہے تو صرف اتنا ہے کہ انشورنس معاملہ میں ربا کے ساتھ غرر بھی پایا جاتا ہے، وہ اس طرح کہ ایک طرف سے تو ادائیگی متعین ہے دوسر کی طرف سے ادائیگی موہوم ہے جو قسطیں ادا کی گئی ہے وہ بھی مل سکتی ہے اور اس سے زیادہ بھی مل سکتی ہے، اسی کو قمار کہتے ہیں، اس لیے مروجہ انشورنس پالیسیاں چاہے ان کا تعلق زندگی سے ہو یا دیگر اشیاء سے ہو ان میں شرکت سے منع کیا جاتا ہے۔لہٰذا اس سے احتراز لازم ہے۔
كما قال الله تعالى : ﴿وأحل الله البيع وحرم الربو ﴾ (البقرة (۳۵) ۔
وقال في مقام آخر: ﴿ياتها الذين امنوا إنها الخمر والميسر والانصات والازلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون ﴾ (مائده: ۹۰)۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): وبما قررناه يظهر جواب ما كثر السؤال عنه في زماننا: وهو أنه جرت العادة أن التجار إذا استأجروا مركبا من حربي يدفعون له أجرته، ويدفعون أيضا مالا معلوما لرجل حربي مقيم في بلاده، يسمى ذلك المال: سوكرة على أنه مهما هلك من المال الذي في المركب بحرق أو غرق أو نهب أو غيره، فذلك الرجل ضامن له بمقابلة ما يأخذه منهم، وله وكيل عنه مستأمن في دارنا يقيم في بلاد السواحل الإسلامية بإذن السلطان يقبض من التجار مال السوكرة وإذا هلك من مالهم في البحر شيء يؤدي ذلك المستأمن للتجار بدله تماما، والذي يظهر لي: أنه لا يحل للتاجر أخذ بدل الهالك من ماله لأن هذا التزام ما لا يلزم. اھ (4/ 170) والله اعلم بالصواب
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0