محترم مفتیانِ کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی پاکستان، عرض ہے کہ فاطمہ کا نکاح زید مفقود سے ہوا تھا، واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ موصوف سن2016 سے روزگار کے سلسلے میں جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں مقیم تھے، اور پاکستان تشریف نہیں لائے، کل ملا کر تقریباً 10 سال سے وہ گھر سے باہر تھے، 22 جولائی 2022 کو ہمیں ان کے لاپتہ ہونے کا علم ہوا، بعد ازاں مختلف افراد نے ٹیلی فون پر اطلاع دی کہ ان کو اغواء کے بعد قتل کر دیا گیا ہے، تاہم ہمارے پاس نہ لاش ہے، نہ موت کا سرکاری سرٹیفکیٹ، نہ 2 عادل گواہوں کی شرعی شہادت موجود ہے، صرف زبانی خبریں ہیں، متوفی کے قریبی دوست بھی یہی اطلاع دیتے ہیں اور خود ھندہ نے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف میں بیٹھ کر استخارہ کیا اس نیت سے کہ مجھے اللہ اپنے شوہر سے ملوائے، انکے حال احوال سے واقفیت حاصل ہو، یہ پتہ چلے کہ میرا شوہر حیات ہے کہ نہیں، تو جواب میں اللہ سبحانہ و تعالٰیٰ نے مفقود کی زیارت نصیب فرمائی، ان کی حالت کچھ اسطرح تھی کہ وہ چہرہ نہیں دکھا رہے تھے، ان کا چہرہ زمین کی طرف جیسے بندہ الٹا لیٹا ہوا ہو، دونوں ہاتھ زمین پر تھے اس کیفیت میں زید نے اپنی زوجہ سے خود فرمایا کہ میری بیگم یہ تم نے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے، خود کو سنبھالو ، میں اس دنیا میں نہیں ہوں ، میں واپس کبھی نہیں آسکتا، اور اسی طرح ہماری کئی علمائے کرام سے جن کے رسوخ ساؤتھ افریقہ میں کافی ہیں، انھوں نے معلومات کی، اور اسطرح فرمایا کہ انکے جن بندوں سے معاملات تھے ، انہوں نے زید کو نقصان پہنچایا ہے اور شاید وہ اس دنیا میں نہیں، اب سائلہ شدید ذہنی اذیت میں ہے اور شریعت کے مطابق اپنی زندگی کا فیصلہ کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ بے سہارا نہ رہے، لہٰذا آپ سے دست بستہ گزارش ہے کہ قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ: کیا صرف اس خبر کی بنیاد پر سائلہ عدت گزار کر دوسرا نکاح کر سکتی ہے؟ یا عدالت سے "مفقود الخبر" کا فیصلہ لینا ضروری ہے؟ اگر عدت لازم ہے تو اس کی مدت کیا ہوگی؟ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ ہم آپ کے جواب کے منتظر ہیں۔ والسلام
صورت مسئولہ میں محض اس طرح کی غیر مصدقہ خبروں اور استخاروں کی وجہ سے زید کی بیوی کیلئے اپنے شوہر کو فوت شدہ ماننا اور عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہیں، البتہ اگر زید اس طرح لاپتہ ہوکہ اس کی موت و حیات کا کوئی علم نہ ہو اور نہ ہی اس سے کسی قسم کا کوئی رابطہ رہے، تو ایسی صورت میں عورت کیلئے اصل حکم تو یہ ہے کہ اگر وہ صبر کرکے اپنا زمانہ عفت اور پاک دامنی کے ساتھ گزارسکے تو بہتر ہے، اگر صبر نہ کرسکے تو بوقتِ ضرورتِ شدیدہ (کہ خرچ وغیرہ کا انتظام نہ ہوسکے یا بلا شوہر کے رہنے میں مبتلائے معصیت ہونے کا شدید خطرہ ہو) یہ گنجائش ہے کہ صورتِ ذیل اختیار کرکے مفقود کے نکاح سے رہائی حاصل کرے، وہ صورت یہ ہے کہ عورت اپنا مقدمہ مسلمان جج کی عدالت میں پیش کرے اور شہادتِ شرعیہ کے ذریعہ ثابت کرے کہ میرا نکاح فلاں شخص کے ساتھ ہوا تھا، اس کے بعد گواہوں سے اس کا مفقود اور لا پتہ ہونا ثابت کرے، اس کے بعد جج خود اپنے طور پر مفقود کی تفتیش و تلاش کرے، جہاں جہاں مفقود کے جانے کا غالب گمان ہو وہاں آدمی بھیجا جائے اور جس جس جگہ جانے کا غالب گمان نہ ہو وہاں اگر خط کو کافی سمجھے تو خطوط بھیجے اور اگر اخبارات میں شائع کردینے سے خبر ملنے کی امید ہو تو یہ بھی کرے، الغرض تفتیش و تلاش میں پوری کوشش اور جہدِ بلیغ کرے، اور جب تلاش کے بعد مفقود کا پتہ چلنے سے مایوسی ہوجائے تو عورت کو چار سال تک مزید انتظار کا حکم کرے پھر ان چار سالوں کے اندر بھی مفقود کا پتہ نہ چلے تو عورت حاکم کے پاس دوبارہ درخواست کردے جس پر حاکم اس کے شوہر کے مردہ ہونے کا فیصلہ سنادے، اس کے بعد چار ماہ دس دن عدتِ وفات گزار کر عورت کو دوسری جگہ نکاح کرنے کا اختیار ہوگا، اور اگر عورت عدالت میں زنا میں مبتلا ہونے کا شدید خطرہ ظاہر کرے اور اس نے ایک عرصہ دراز تک مفقود کا انتظار کرنے کے بعد مجبور ہوکر اس حالت میں درخواست دی ہو جبکہ وہ صبر سے عاجز آگئی ہو تو اس صورت میں اس کی بھی گنجائش ہے کہ ایک سال کے انتظار کے بعد تفریق کردی جائے اور اس صورتِ میں یہ تفریق طلاقِ بائن کہلائے گی۔اورعورت بعدازتفریق عدت طلاق گزارکردوسری جگہ نکاح کرنے میں آزادہوگی ۔
کما فی الہندیۃ:ابتداء العدة في الطلاق عقيب» «الطلاق وفي الوفاة عقيب الوفاة، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها كذا في الهداية.
وإن شكت في وقت موته فتعتد من حين تستيقن بموته كذا في العتابية.(کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر فی العدۃ، ج: ١، ص: ٥٣٢، مط: ماجديه)
وفی الہدایۃ: ولا یفرق بینہ وبین امرأتہ وقال مالکؒ اذا مضی اربع سنین یفرق القاضی بینہ وبین امرأتہ وتعتدّ عدّۃ الوفاة ثمّ تزوّج من شاءت لأنّ عمرؓ ھکذا قضٰی اھ (کتاب المفقود، ج:٢، ص:٤٢٤،مط: رحمانیہ)
وفی الدر المختار ایضاً: (ولا يفرق بينه وبينها ولو بعد مضي أربع سنين) خلافا لمالك الخ
وفی الرد تحت قوله: خلافا لمالك) فإن عنده تعتد زوجة المفقود عدة الوفاة بعد مضي أربع سنين (الی قولہ) لو أفتى به في موضع الضرورة لا بأس به على ما أظن اهـ (کتاب المفقود، ج:٤، ص:٢٩٥، مط:ایچ ایم سعید)
و في حیلة الناجزۃ: طریق تطلیق زوجة المفقود أو الغائب الذی تعذر الإرسال إلیه أو ارسل الیه فتعاند إن کان لعدم النفقة فإن الزوجة تثبت بشاھدین، إن فلاناً زوجھا، وغاب عنھا، ولم یترک لھا نفقة، ولا وکیلاً بھا ولا اسقطتھا عنه، وتحلف علٰی ذٰلک، فیقول الحاکم: فسخت نکاحه أو طلقتک منه أو یأمرھا بذٰلک، ثم یحکم به، وھٰذا بعد التلوم بنحو شھر أو بإجتھادہ عند المالکیة، وفوراً أو متراخیاً عند الحنابلة، وبعد ثلاثة أیام عند الشافعیة، وإن کان لخوفھا الزنا وتضررھا بعدم الوطئ والعنا مع وجود النفقة والغنا فبعد صبرھا سنة فأکثر عند جلّ المالکیة، وبعد ستة أشھر عند الحنابلة اھ (ص١٣٤، مط: دار الاشاعت).
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0