السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ !
مفتی صاحب گھریلو جھگڑوں کے با عث میرے سابقہ شوہر نے اپنی مرضی سے خلع کے پیپر ز پر دستخط کئے ہیں ۔اور کہا کہ میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتا ،اب وہ یہ کہتے ہیں کہ طلاق نہیں ہوئی ہے وہ گنجائش کی صورت نکالنا چاہتے ہیں ۔ خلع کے پیپر ز پر دستخط انہو ں نے اپنی مرضی سے کیے ہیں مگر زبان سے طلاق کے الفاظ ادا نہیں کیے ہیں۔اب کیا طلاق ہو چکی ہے یا گنجائش کی صورت باقی ہے۔؟
نوٹ:خلع کو سات سے آٹھ مہینے ہو چکے ہیں ۔ نیز منسلکہ تحریر تین طلاقوں پر مشتمل ہے ۔
صورت مسؤلہ میں سائلہ کے شوہر نے اگر منسلکہ طلاق پر مشتمل خلع نامہ پر دستخط کر دیے ہوں۔ اگرچہ زبان سے طلاق کے الفاظ نہ کہے ہوں، تب بھی اس سے سائلہ پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا اور اس عرصے میں اگر سائلہ کو تین ماہواریاں آ کر اس کی عدت گزر چکی ہو تو اب سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
ففى تفسير القرطبي: قوله تعالیٰ﴿فإن طلقہا فلا تحل له من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ﴾ (ج:3، ص:147)۔
وفي الدر المختار:کتب الطلاق ان مستبینا علی نحو لوح وقع إن نوی وقیل مطلقًا ۔اھ تحت (قوله کتب الطلاق الخ) (إلى قوله) وإن کانت مرسومة یقع الطلاق نوی اولم ینو۔ الخ ( مطلب في الطلاق بالكتابة ج:3، ص:246، مط:دار الفكر - بيروت)۔