کیا والد صاحب اپنی زندگی میں اپنی پراپرٹی سیل (فروخت) کر کے ایک بیٹے کو سب دیں اور بیٹیوں کو کچھ بھی نہ دیں تو اس پہ اللہ پاک کا کوئی حکم ہے بیٹیوں کے حق میں؟ پلیز رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں، مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل، اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے۔ اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ اسے تقسیم کرنے پر مجبور کرے اور حصے کا مطالبہ کرے؛ اس لیے اگر سائلہ کے والد صاحب اپنی زندگی میں اپنی پراپرٹی سیل (فروخت) کر کے ایک بیٹے کو سب کچھ دے دیں اور وہ بیٹا اس پر قبضہ بھی کر لے، تو یہ ہبہ (گفٹ) شرعاً وقضاءً درست اور تام ہو جائے گا۔ جس کے نتیجے میں بیٹا سب کچھ کا مالک ہو جائے گا اور پھر دیگر بہن بھائیوں کو اس سے کسی قسم کے مطالبہ کا حق نہیں رہے گا۔ تاہم اگر سائل کے والد نے بلا کسی شرعی اور معقول وجہ کے محض بیٹیوں کو محروم کرنے کی غرض سے ایسا کیا تو اولاد کے درمیان عدل نہ کرنے پر وہ عند اللہ مؤاخذہ کا مستحق ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (وتتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا وان شاغلا لا۔ الخ(کتاب الھبۃ ،ج:6،ص:691-690،ط: سعید)
وفی الھندیۃ: لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية.اھ(الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز،ج:4،ص:378،ط: ماجدیۃ)
و فی بدائع الصنائع: وینبغی للرجل أن یعدل بین أولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ وتعالی "إن االلہ یأمر بالعدل والإحسان (إلی قالہ) ولأن فی التسویۃ تألیف القلوب والتفضیل یورث الوحشۃ بینھم فکانت التسویہ بینھم أولی ولو نحل بعضاً وحرم بعضاً جاز من طریق الحکم لأنہ تصرف فی خالص ملکہ لاحق لأحد فیہ الخ (کتاب الھبۃ فصل واما الشرائط بانواع، ج:6، ص:127،ط:سعید)۔
و في المصنف لابن أبي شيبة : عن النعمان بن بشير قال : أعطاني أبي عطية فقالت أمي عمرة بنت رواحة : لا أرضى حتى تشهد النبي صلى الله عليه و سلم قال فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إني أعطيت ابني من عمرة عطية فأمرتني أن أشهدك. قال أعطيت كل ولدك مثل هذا ؟ قال : لا ، قال فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم (وفي رواية أخرى قال فاردده) (مسألة العدل بين الأولاد ، ج:٧، ص: 278، ط: دار التاج لبانن)
و في الدر المختار: وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى و لو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم۔اھ (كتاب الهبة ، ج: ۵، ص: 696، ط : سعيد)-
و في البحر الرائق : يكره تفضيل بعض الأولاد علی البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله لواحد جاز قضاء وهو آثم ( إلى قوله) وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبةاھ( كتاب الهبة ، ج: 7 ، ص: 288، ط : ماجدية)