بخدمت جناب مفتی صاحب! جامعہ بنوریۃ عالمیۃ سائٹ کراچی، فتوی درکار ہے تقسیمِ وراثت کے متعلق ، السلام علیکم؛ بعد از سلام عرض یہ ہے کہ رقم مبلغ ایک کروڑ نوے لاکھ روپیہ (19,000,000) نقد کی تقسیم شریعت کے مطابق کس طرح ہوگی ، چھ(6) بیٹے ، چار شادی شدہ الگ رہتے ہیں، باقی دو کنوارے ماں باپ کے ساتھ کرائے کے گھر میں رہتے ہیں ، پانچ بیٹیاں یہ سب شادی شدہ ہیں، اپنے گھروں میں خوش ہیں ، اور ماں باپ الحمدللہ حیات ہیں ، چھ بیٹے، پانچ بیٹیاں ،ماں اور باپ ، کل قرضہ باپ کی طرف تقریبا ً نوے لاکھ(90) روپے ہیں، فتوی شریعت کے مطابق عنایت فرمائیں، تقسیم کس طرح ہوگی، ماں باپ زندہ ہیں، شکریہ" نوٹ" کیا اولاد والد کو تقسیم جائیداد پر مجبور کر سکتے ہیں اور اگر کوئی اولاد اس طرح کرتی ہے تو ان کیلئے کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں جائز تصرف کرسکتا ہے، اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کو اس تقسیم پر مجبور کرے،البتہ اگر کوئی شخص اپنی صحت والی زندگی میں بلاجبر و اکراہ محض اپنی مرضی و خوشی سےاپنا مال و جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیار ہے، یہ تقسیم ترکہ نہیں، بلکہ ہبہ (گفٹ) کا کہلائے گی، چنانچہ صورت مسئولہ میں والد کوچاہیے کہ سب سے پہلے اپنے ذمہ قرض کی ادائیگی کااہتمام کرے، اس کے بعدجوکچھ بچ جائے اس میں سے بقیہ زندگی کے لیےجو کچھ رکھناچاہےوہ رکھ لے، تاکہ کسی دوسرےکی محتاجگی کی نوبت پیش نہ آئے ،اسی طرح اپنی بیوی کوبھی کچھ دیناچاہے تووہ دیکربقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد میں برابر تقسیم کردے اور ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالک و قابض بھی بنا دے، (محض کاغذات میں نام کردیناکافی نہیں )تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاًبھی درست اور تام ہوسکے، جبکہ اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری ، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے، تو اس کا بھی اسے اختیار ہے، مگر بلاوجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم کرنا گناہ کی بات ہے،جس سے احتراز چاہیے۔
کما فی الدر المختار: (وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك) فلا تصح هبة صغير ورقيق۔(کتاب الھبہ، ج:5، ص:687، م:کراچی)۔
وفی الشامیۃ: وأركانه: ثلاثة وارث ومورث وموروث. وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه، وأسبابه وموانعه سيأتي وأصوله: ثلاثة الخ (کتاب الفرائض، ج:6، ص:758، م:کراچی)۔
وفیھا ایضاً: (قوله كما حققه مفتي دمشق إلخ) أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة۔۔۔۔ وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى۔(مطلب فی مھم فی قول الواقف الخ، ج :4، ص:444، م:کراچی)۔
وفی البحر: قيد بقوله لك لأنه لو قال جعلته باسمك لا يكون هبة ولهذا قال في الخلاصة لو غرس لابنه كرما إن قال جعلته لابني تكون هبة وإن قال باسم ابني لا تكون هبة اھ (کتاب الھبۃ، ج:7، ص:216، ط:رشیدیۃ)۔