گناہ و ناجائز

نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی کا ایک دوسرے کا مزاج سمجھنے کیلئے بات کرنا

فتوی نمبر :
97542
| تاریخ :
2026-07-16
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی کا ایک دوسرے کا مزاج سمجھنے کیلئے بات کرنا

نامحرم سے بات کرنا جائز ہے جس سے شادی کا ارادہ ہو اور ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے؟ موجودہ دور میں حالات اتنے خوفناک ہو چکے ہیں کہ شادی جیسے مقدس رشتے سے ڈر لگتا ہے کہ پتہ نہیں وہ شخص کیسا ہو۔ تو اگر حیا و عفت کے دائرے میں رہ کر صرف یہ جاننا ہو کہ اگلے شخص کا مزاج کیسا ہے تاکہ کل کو رشتے خراب نہ ہوں اور پہلے پتہ لگ جائے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ نے شادی کے بعد پیش آنے والے مسائل و مشکلات سے بچنے کیلئے کفاءت(ہم پلہ ہونا) کا نظام رکھا ہے جس میں لڑکا لڑکی کے دینی، معاشی اور خاندانی پہلوؤں کو دیکھا جاتا ہے۔ اگر لڑکی کے اولیاء و سرپرست ان امور کا لحاظ رکھیں تو بعد میں عمومی طور پر مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ پھر اگر کسی خاتون یا لڑکی کو بہت ہی اندیشہ ہو تو شریعتِ مطہرہ نے تفویضِ طلاق کا راستہ بھی دیا ہے کہ عورت اپنے ہونے والے خاوند سے اپنے اوپر طلاق واقع کرنے کا اختیار حاصل کرلے (جس کے لئے بوقتِ ضرورت علماء سے رابطہ کرکے معلوم کیا جا سکتا ہے)۔ اس لئے شریعتِ مطہرہ نے شادی سے پہلے اتنی گنجائش دی ہے کہ مرد و عورت ایک دوسرے کو ایک نظر دیکھ لیں تاکہ اگر کوئی ظاہری عیب اور نقصان ہو تو وہ معلوم ہو جائے۔ اور دیگر تفصیلی معلومات خاندان یا دوستوں کے ذریعہ بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ لہذا کسی عورت کے لئے مرد کا مزاج جاننے کی غرض سے نکاح سے قبل لمبی اور تسلسل سے باتیں کرنے کی (جس میں عمومی طور پر غلط بیانی کی بنا پر دھوکہ اور فراڈ بھی ہوجاتا ہے) شرعاً گنجائش نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في مشكاة المصابيح: عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا خطب أحدكم المرأة فإن استطاع أن ينظر إلى ما يدعوه إلى نكاحها فليفعل» . رواه أبو داود،اھ(الفصل الثاني،ج:2،ص:932،ط:المكتب الإسلامي)
و في الفقه الاسلامي : ومتى حرم المس حرم السفر والخلوة، فلا يجوز أن يخلو رجل بامرأة ليست زوجته ولا ذات محرم منه، ولا السفر معها، لقوله صلى الله عليه وسلم: «لا تسافر المرأة فوق ثلاث، إلا ومعها زوجها، أو ذو رحم محرم منها» وقوله: «ألا لا يخلون رجل بامرأة، إلا كان ثالثهما الشيطان، عليكم بالجماعة، وإياكم والفرقة، فإن الشيطان مع الواحد، وهو من الاثنين أبعد(باب اللمس،ج:4،ص:2658،ط:دار الفکر)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته:بينا أن الخطبة ليست زواجا، وإنما هي مجرد وعد بالزواج، فلا يترتب عليها شيء من أحكام الزواج، ولا الخلوة بالمرأة أو معاشرتها بانفراد۔۔۔وأما المعاشرة قبل الزواج والذهاب معا إلى الأماكن العامة وغيرها، فهو كله ممنوع شرعا، بل إنه لا يحقق الغاية المرجوة، إذ كل منهما يظهر بغير حقيقته، كما قيل: (كل خاطب كاذب). ولأن الخاطب قد يتعجل الأمور، وقد يستجيب الإنسان لتلبية الغريزة، ويضعف عن مقاومتها في حال الانفراد بالمرأة، فيقع الضرر بها، وتتأثر سمعتها عند العدول عن الخطبة.اھ(ثاني عشر تحريم الخلوة بالمخطوبة،ج:9،ص:6508،ط:دار الفکر)
و في رد المحتار : تحت(قوله بنية السنة)۰۰۰ولو أراد أن يتزوج امرأة فلا بأس أن ينظر إليها، وإن خاف أن يشتهيها لقوله - عليه الصلاة والسلام - للمغيرة بن شعبة حين خطب امرأة «انظر إليها فإنه أحرى أن يؤدم بينكما» رواه الترمذي والنسائي وغيرهما ولأن المقصود إقامة السنة لا قضاء الشهوة اهـ والأدوم والإيدام الإصلاح والتوفيق إتقاني. [تنبيه] تقدم الخلاف في جواز المس بشهوة للشراء، وظاهر قول الشارح لا المس أنه لا يجوز للنكاح، وبه صرح الزيلعي حيث قال: ولا يجوز له أن يمس وجهها ولا كفيها وإن أمن الشهوة لوجود الحرمة وانعدام الضرورة والبلوى اهـ.(فصل في النظر والمس،ج:6،ص:370،ط:سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 97542کی تصدیق کریں
0     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات