گناہ و ناجائز

لے پالک بیٹی کا کل مال وجائیداد پر قبضہ کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
97807
| تاریخ :
2026-07-25
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

لے پالک بیٹی کا کل مال وجائیداد پر قبضہ کرنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم مفتی صاحب!
میرے ایک وراثتی اور جائیداد کے معاملے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔
میرے والد اور میرے چچا سگے بھائی تھے۔ میرے چچا کی کوئی حقیقی اولاد (بیٹا یا بیٹی) نہیں تھی۔ ان کا کوئی اور بھائی یا بہن بھی نہیں تھا۔ میں اپنے والد کا اکلوتا بیٹا ہوں۔میرے دادا، دادی، والد اور چچی (میرے چچا کی اہلیہ) سب میرے چچا کی وفات سے پہلے انتقال کر چکے تھے۔معاملہ یہ ہے کہ ایک 13 مرلے کا گھر تھا، جس میں 6.5 مرلے میرے والد اور 6.5 مرلے میرے چچا کے حصے میں تھے۔ اس گھر کے ساتھ تقریباً 7.5 مرلے اضافی زمین بھی تھی، جس کی کبھی باقاعدہ تقسیم یا تعیین نہیں ہوئی تھی، لہٰذا وہ میرے والد اور میرے چچا کی مشترکہ ملکیت تھی اور اس میں دونوں کا برابر حصہ بنتا تھا۔
میرے چچا نے اپنی زندگی میں اپنی ایک منہ بولی بیٹی کے نام جائیداد کے کاغذات بنوا دیے اور اسے خریدار ظاہر کیا، لیکن میرے علم کے مطابق اس نے حقیقت میں کوئی قیمت ادا نہیں کی تھی۔ بظاہر یہ ایک کاغذی خرید و فروخت تھی۔اس کے علاوہ میرے چچا کے انتقال کے بعد اسی منہ بولی بیٹی نے: گاڑی، بینک بیلنس، اسلحہ، دیگر گھریلو سامان اور زیورات اپنے قبضے میں لے لیے۔ زیورات میں کچھ میری مرحوم دادی کے تھے اور کچھ میری مرحوم چچی کے تھے۔
میرے سوالات درج ذیل ہیں:
1۔ اگر کسی شخص کو صرف کاغذات میں خریدار ظاہر کیا جائے لیکن حقیقت میں اس نے کوئی قیمت ادا نہ کی ہو، تو کیا ایسی فروخت شرعاً معتبر ہوتی ہے؟
2۔ اگر 7.5 مرلے اضافی زمین مشترکہ ملکیت تھی اور اس میں میرے والد کا بھی حصہ شامل تھا، تو کیا میرے چچا کو پوری زمین یا اس میں میرے والد کے حصے کو کسی دوسرے شخص کے نام منتقل کرنے کا حق تھا؟
3۔ اگر منہ بولی بیٹی کو جائیداد کے کاغذات بنا دیے گئے ہوں لیکن شرعی طور پر فروخت یا ہبہ کی شرائط مکمل نہ ہوئی ہوں، تو اس جائیداد کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
4۔ میرے چچا کی وفات کے وقت ان کے والدین، اہلیہ، اولاد، بھائی اور بہن میں سے کوئی بھی زندہ نہیں تھا۔ ایسی صورت میں کیا میں، اپنے مرحوم والد کے اکلوتے بیٹے کی حیثیت سے، ان کی وراثت میں حق دار بنتا ہوں؟ اگر بنتا ہوں تو کس حیثیت سے اور کتنا حصہ ملے گا؟
5۔ کیا منہ بولی بیٹی شرعاً میرے چچا کی وارث شمار ہوتی ہے؟ کیا اسے گاڑی، بینک بیلنس، اسلحہ، زیورات یا دیگر اموال میں کوئی وراثتی حق حاصل ہے؟
6۔ دادی اور چچی کے زیورات اگر ان کی ذاتی ملکیت تھے تو ان زیورات کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور ان کے اصل حق دار کون ہیں؟
7۔ اگر منہ بولی بیٹی نے مذکورہ اموال اور جائیداد پر قبضہ کر لیا ہو جبکہ شرعاً وہ وارث نہ بنتی ہو، تو ایسی صورت میں ان اموال کا حکم کیا ہوگا اور ان کی واپسی یا تقسیم کس طرح کی جائے گی؟
برائے مہربانی قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً واحسن الجزاء۔ والسلام

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو كہ گودلى گئى اولاد گودلىنے والے کے تركہ ومىراث میں حقیقی اولاد کی طرح وارث نہیں بنتی، بلکہ ان کو اپنی حقیقی والدین کے تركہ میں ہى حسب حصص شرعىہ حقدار ہوتی ہىں، لہٰذا سائل کے چچا مرحوم کا سائل کے علاوہ کوئی اور وارث یعنی والدین، اہلىہ، اولاد، بھائی اور بہن وغىره میں سے کوئی بھی زندہ نہ ہو، تو بھتیجاہونے کی وجہ سے سائل ہی چچا مرحوم کے تمام تركہ کا حق دار ہوگا۔ چنانچہ چچا مرحوم کی منہ بولى بیٹی کا اس کے چھوڑے گئے ساز و سامان پر قابض ہو جانا شرعاً ناجائز و حرام ہے۔ جس کی وجہ سے وہ سخت گناہگار ہو رہی ہے۔ شرعا اس پر لازم ہے کہ وہ یہ اشیاء سائل (جو کہ حقیقی وارث ہے) کے حوالہ کر کے مواخذہ اخراوی سے سبكدوشی حاصل کرلے ، بصورت دىگر سائل کو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا بھی حق حاصل ہوگا۔ البتہ ان متروکہ اموال میں سے جو زیور سائل کی چچی مرحومہ کا ہے، وہ ان کے ورثاء والدین بہن بھائیوں وغیرہ کو لوٹانا لازم ہوگا۔ جبکہ گھر کے سامنے کی موجود مشترکہ زمین کی خرید و فروخت کے ڈاکومنٹ سائل کے چچا مرحوم نے اگر اپنی زندگی میں بنائے ہو، اور ان کے درمیان باقاعدہ خرید و فروخت کا معاملہ بھی ہو چکا ہو جس کے ثبوت کے طور پر یہ کاغذات بھی بنائے گئے ہوں، تو اس معاملہ کے بعد اگرچہ منہ بولى بیٹی نے ثمن کی ادائیگی نہ کی ہو ،تو چونکہ خرید و فروخت کے معاملہ شرعاً ثمن کی ادائیگی کے بغیر بھی مکمل ہو جاتا ہے، اس لیے چچا مرحوم کی ملکیت کے بقدر زمین کی مالک منہ بولى بیٹی بن چکی ہے، مگر جو حصہ سائل كے والد مرحوم کا تھا، اس حصہ میں یہ خرید و فروخت کاعقددرست نہیں ہوا ،بلکہ سائل کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ چنانچہ اگر سائل اجازت دیدے تو اس حصہ مىں بھی خرید و فروخت کا یہ معاملہ درست ہو کر منہ بولى بیٹی پر اس کا عوض سائل کو دینا لازم ہوگا، بصورت دیگر اس پر اس قدر زمین سائل کو لوٹانی لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال الله تعالى في القرآن المجيد: ﴿وَمَا جَعَلَ أَدۡعِيَآءَكُمۡ أَبۡنَآءَكُمۡۚ ذَٰلِكُمۡ قَوۡلُكُم بِأَفۡوَٰهِكُمۡۖ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلۡحَقَّ وَهُوَ يَهۡدِي ٱلسَّبِيلَ (٤) ٱدۡعُوهُمۡ لِأٓبَآئِهِمۡ هُوَ أَقۡسَطُ عِندَ ٱللَّهِۚ فَإِن لَّمۡ تَعۡلَمُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ فَإِخۡوَٰنُكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمۡۚ﴾ [سورة الأحزاب: 4-5]
وفي الفتاوى الهندية: ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء وهو على ضربين: ولاء عتاقة وولاء موالاة وفي كل منهما يرث الأعلى من الأسفل ولا يرث الأسفل من الأعلى إلا إذا شرط فقال: إن مت فمالي ميراث لك؛ فحينئذ يرث الأسفل من الأعلى، كذا في خزانة المفتين اهـ [كتاب الفرائض، الباب الأول في تعريف الفرائض، ج:6 ص:447 ط: دار الفكر بيروت)]
وفي الأشباه والنظائر لابن نجيم: ‌لا ‌يجوز ‌التصرف ‌في ‌مال غيره بغير إذنه ولا ولاية إلا في مسألة في السراجية: يجوز للولد والوالد الشراء من مال المريض ما يحتاج إليه بغير إذنه اهـ [كتاب الغصب، ص:243 ط: دار الكتب العلمية بيروت)]
وفي درر الحكام شرح غرر الأحكام: (وكل أجنبي في مال صاحبه) حتى لا يجوز له التصرف فيه إلا بإذنه كما للأجانب (فيصح له بيع حظه) أي نصيبه من المال (ولو من غير شريكه بلا إذنه) يعني يجوز بيع أحد الشريكين نصيبه من المال من شريكه ومن غيره بلا إذن شريكه (إلا في صورة الخلط والاختلاط) فإنه لا يجوز إلا بإذنه اهـ [كتاب الشركة، ج:2 ص:319 ط: دار إحياء الكتب العربية)]
وفي الهداية: قال: "البيع ينعقد بالإيجاب والقبول إذا كانا بلفظي الماضي" مثل أن يقول أحدهما بعت والآخر اشتريت؛ لأن البيع إنشاء تصرف، والإنشاء يعرف بالشرع والموضوع للإخبار قد استعمل فيه فينعقد به اهـ [كتاب البيوع، ج:3 ص:23 ط: دار إحياء التراث العربي)]
وفي الدر المختار: ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (ثم جزء جده) أراد بالجد ما يشمل أبا الأب، ومن فوقه بدليل قوله الآتي: وإن علا فلا يرد أن عم الأب وعم الجد في كلامه الآتي خارجان عن الأصناف الأربعة. اهـ [كتاب الفرائض، ‌‌فصل في العصبات، ج:6 ص: 774 ط: سعيد]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 97807کی تصدیق کریں
1     18
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات