میرا سوال یہ ہے کہ میری بیوی حاملہ ہے اور ڈاکٹر بول رہے ہیں ٹیسٹ کی رپور ٹ دیکھ کر کہ بچے کی تھیلی میں پانی بہت کم ہے نشو نما نہیں ہوری اور پانی کے مسلسل نکلنے سے انفنکش ہونے کے 80٪ خطرہ ہے اور پانی نہ ہونے کی وجہ سے ویسے بھی بچہ تو کبھی بھی مر سکتا ہے یہ پانچ مہینے کا ہے تو کیا اسقاط حمل کرنا جائز ہوگا ؟
واضح ہو کہ حمل میں روح پڑنے (جس کی مدت عموماً چار ماہ ہوتی ہے ) سے پہلے اگر کوئی شرعی عذر موجود ہو اور اس عذر کی تصدیق کسی ماہر، دیندار اور قابل اعتماد ڈاکٹر سے بھی ہوجائے تو اسقاط حمل کی گنجائش ہوتی ہے۔ لیکن حمل میں روح پڑنے کے بعد اسقاط حمل کی اجازت نہیں رہتی،بلکہ اس صورت میں حمل کو ساقط کرنا قتل النفس کے زمرے میں آنے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں ۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں چونکہ سائلہ کی بیوی کا حمل پانچ ماہ کا ہوچکا ہے، اس لیے مذکورہ خدشے کی بنا پر بھی اس مرحلے پر اسقاط حمل کروانا شرعاً جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے ۔ تاہم اگر خدانخواستہ یہ بچہ ماہ کے پیٹ میں مرجائے یا ایسی کوئی صورت بن جائے کہ جس کے بعد اس کی والدہ کو جان کا خطرہ لاحق ہوجائے اور دیندار ڈاکٹرز کے ہاں بھی فقط اسقاط حمل ہی ماں کی جان بچانے کا واحد حل ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں شرعاً بھی اس کی اجازت ہوگی ۔
وفی الشامیۃ:(قوله: وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما."
ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل". (ج3ص: 176،کتاب النکاح ط:ایچ ایم سعید)
وفی الموسوعة الفقهية الكوتية :وذهب الحنفیة إلی إباحة إسقاط العلقة حیث أنهم یقولون بإباحة إسقاط الحمل ما لم یتخلق منه شيء ولم یتم التخلق إلا بعد مائة وعشرین یوماً، قال ابن عابدین: وإطلاقهم یفید عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذکورة علی إذن الزوج، وکان الفقیه علي بن موسی الحنفي یقول: إنه یکره فإن الماء بعد ما وقع في الرحم مآله الحیاة، فیکون له حکم الحیاة کما في بیضة صید الحرم، قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة علی حالة العذر أو أنها لا تأثم إثم القتل." (ج30 ص:285، الأحكام المتعلقة بالعلقة ط: دارالسلاسل)