گناہ و ناجائز

غیر قانونی طریقہ سے اسکول کو بچانےپر ملنے والی تنخواہ کا حکم

فتوی نمبر :
98184
| تاریخ :
2026-08-04
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

غیر قانونی طریقہ سے اسکول کو بچانےپر ملنے والی تنخواہ کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بندہ ایک ادارے کی طرف سے اسکول میں ملازم ہے ، جہاں یہ شرط طے ہے مخصوص تعداد ہوگی تو ادارے کی طرف سے استاذ کو تنخواہ جاری رہے گی، گزشتہ سال ادارے کی طرف سے تفتیش کرنے والی کمیٹی حاضر ہوئی، جس نےا سکول کی تعداد نامکمل قرار دی، اور تنخواہ روک لی گئی، جب کہ استاذ نے اسی ادارے کے کہنے پر ادارے کے کسی اورا سکول میں پڑھانا جاری رکھا، رواں سال ادارے کی طرف سے دوبارہ تفتیش کرنے والی کمیٹی حاضر ہوئی ، جب کہ استاذ اب پھر سے اپنے مکان میں پڑھا رہا ہے ، اور مطلوبہ تعداد مکمل نہیں، کمیٹی افسر کے خیال میں یہ تھا کہ اس استاذ کی تنخواہ صرف رواں سال کی رکی ہوئی ہے، افسر نے استاد سے اس بات پر صلح کر لی کہ ایک ماہ کی تنخواہ استاذ کو ملے گی اور بقیہ مہینوں کی تنخواہ افسر رکھ لے گا ، گزشتہ بقایاجات میں سے، جبکہ آئندہ تنخواہیں استاذ کو پوری ملے گی، اب جب تنخواہ جاری ہوئی تو اس میں پچھلے سال کی بھی بقایاجات شامل ہیں، اب افسر کا اصرار ہے کہ استاذ صرف ایک ہی ماہ کی تنخواہ خود رکھے گا اور بقایا مکمل تنخواہیں جس میں پچھلے سال کی بھی شامل ہیں وہ افسر کو دینی ہوگی، سوال یہ ہے کہ کیا استاذ کو نامکمل تعداد جو کہ آبادی کی بھی وجہ سے ہے، جسے افسر نے مکمل لکھی ہے ، اس پر رواں سال کی تنخواہ لینا جائز ہے کہ نہیں؟ اور افسر کے ساتھ جو صلح ہوئی وہ جائز ہے کہ نہیں؟ اور پچھلے سال ادارے کے کہنے پر کسی اورا سکول میں جو پڑھائی کرائی گئی ہے، اس تنخواہ کو لینا چاہیے کہ نہیں؟ آیا اس میں سے افسر کو کچھ دینا ٹھیک ہے یا غلط؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگراستاذنے گزشتہ سال ادارے کی ہدایت پر اسی ادارے کے کسی دوسرے اسکول میں تدریسی خدمات انجام دی ہوں ،تو اس مدت کی پوری تنخواہ اس کا حق ہے ، لہٰذا اس تنخواہ کے اجراء کاحکم نامہ جاری کروانے پر افسر کا استاذسےرشوت طلب کرناشرعاًناجائزاورحرام ہے ،لہذا مذکوراستاذ افسرسے گزشتہ سال کی پوری تنخواہ کامطالبہ کرسکتاہے بصورت دیگر اپنے حق کی وصولی کے لیے افسر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کابھی مجازہے۔
جبکہ رواں سال اگر واقعۃً ادارہ جاتی ضابطہ کے مطابق مطلوبہ تعداد پوری نہیں تھی، اور متعلقہ افسر نے اپنی ذمہ داری پر تعداد مکمل درج کرکے ادارے سے تنخواہ جاری کروائی ہو، تو چونکہ اس کا یہ عمل ادارے کے قواعد و ضوابط کے خلاف اورغلط بیانی ودھوکہ دہی پرمشتمل ہے، چنانچہ اس بنیادپر استاذکا مذکور افسر کے ساتھ کیاگیا معاہدہ( ایک ماہ کی تنخواہ استاد رکھےاور باقی تنخواہیں افسرلے لے)، شرعاً جائز نہیں؛ چنانچہ اس معاہدہ کےبعددونوں (استاذ،افسر)کے لیے ادارےکی جانب سے جاری ہونے والی رقم کواپنے تصرف میں لاناناجائزاورحرام ہے ،لہذاان دونوں کو مذکوررقم متعلقہ ادارے کوواپس کرنالازم وضروری ہے ،لیکن اگربالفرض واپس کرنے کی کوئی بھی ممکنہ صورت نہ ہو،تواس رقم کو بلانیت صدقہ کردیں،نیزآئندہ اس قسم کے دھوکہ دہی اورجھوٹ پرمبنی خلاف قانون امورکی انجام دہی سے احترازلازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی النتف فی الفتاوی : والاجارۃ لا تخلو من وجھین: إما أن تقع علی وقت معلوم أو علی عمل معلوم فإن وقعت علی عمل معلوم فلا تجب الأجرۃ الا بإتمام العمل إذا کان العمل مما لا یصلح أولہ الا بآخرہ وان کان یصلح أولہ دون آخرہ فتجب الاجرۃ بمقدار ما عمل، وإذا وقعت علی وقت معلوم فتجب الأجرۃ بمضي الوقت إن ھو استعملہ أو لم یستعملہ وبمقدار ما مضی من االوقت تجب الأجرۃ الخ ( کتاب الاجارۃ،معلومیۃ الوقت و العمل، ص: ٣٣٨، مط: سعید)۔
و فی الدر المختار : ( والثانی ) وھو الاجیر ( الخاص ) ویسمی اجیر واحد ( وھو من یعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصیص ویستحق الاجر بتسلیم نفسہ فی مدۃ وان لم یعمل ( الی قولہ )ولیس للخاص أن یعمل لغیرہ ولو عمل نقص من أجرتہ بقدر ما عمل الخ
وفی الشامیۃ تحت : ( قولہ وان لم یعمل ) أی إذا تمکن من العمل، فلو سلم نفسہ ولم یتمکن منہ لعذر کمطر ونحوہ لا أجر لہ کما فی المعراج عن الذخیرۃ ( الی قولہ ) ( قولہ لیس للخاص أن یعمل لغیرہ) بل ولا أن یصلی النافلۃ قال فی التاتارخانیۃ وفی فتاوی الفضل وإذا استأجر رجلا یوما یعمل کذا فعلیہ أن یعمل ذالک العمل الی تمام المدۃ ولا یشتغل بشئی آخر سوی المکتوبۃ الخ ( کتاب الاجارۃ، ج:٦، ص: ٦٩، مط: سعید)
وفی رد المحتار:ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ(کتاب الحظر والاباحۃ،ج:٦،ص:٣٨٥،مط: سعید)
وفی رد المحتار: وفي الفتح: ثم الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة.
الثاني: ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك ولو القضاء بحق؛ لأنه واجب عليه.(کتاب القضاء، مطلب في الكلام على الرشوة والهدية، ج:٥، ص: ٣٦٢، مط: سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 98184کی تصدیق کریں
0     29
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات