گناہ و ناجائز

امتحانات میں نقل کرنے اور کروانے کا حکم

فتوی نمبر :
98259
| تاریخ :
2026-08-07
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

امتحانات میں نقل کرنے اور کروانے کا حکم

امتحانات میں نقل کرنا کیسا ہے۔اگر ڈیوٹی والا جان بوجھ کر نقل کرنے والے کو نظر انداز کرے۔ اگر کوئی ڈیوٹی کے عملہ سے مل کر طالبعلم کو نقل مہیا کرے تو کیسا ہے۔ اور اگر نقل مہیا کرنے والا خود ہی ڈیوٹی والا ہو تو کیسا ہے۔ مہربانی فرما کر اس کی تفصیل پوائنٹ میں مہیا کر دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح رہے کہ کسی بھی ادارے کی طرف سے امتحانی عمل کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ درخواست دہندہ کی ذاتی صلاحیت و قابلیت معلوم ہو جائے اور درخواست دہندہ کا اپنے کو امتحان کے لئے پیش کرنا درحقیقت اس کی طرف سے یہ کہنا ہوتا ہے کہ میں اپنی صلاحیت کی بنیاد پر امتحانی عمل سے گزر رہا ہوں اور جو کچھ لکھ رہا ہوں وہ میں ذاتی علم سے لکھ رہا ہوں۔ اس اعتبار سے امتحان میں نقل کرنا دھوکہ، فراڈ، جھوٹ اور دوسرے باصلاحیت افراد کی حق تلفی جیسے متعدد برائیوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے سخت گناہ کی بات ہے اور گناہ کے کاموں میں تعاون کرنا بھی گناہ ہے جس سے احتراز لازم ہے۔ خاص کر جن افراد کی ڈیوٹی نقل روکنے کی ہے ان کا اس میں ملوث ہونا اپنی ذمہ داری میں خیانت بھی ہے۔ لہذا نہ نقل کرنا جائز ہے اور نہ ہی اس میں تعاون کرنا جائز ہے، دونوں سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا(سورۃالنساءآیت 58)۔
و قال تعالیٰ: إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ(سورۃالانفال آیت 58)۔
و قال تعالیٰ:وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ (سورۃ المائدۃ آیت4)۔
و فی مشكاة المصابيح للتبريزي: وعنه (عن ابی ھریرۃ)أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها فنالت أصابعه بللا فقال : ما هذا يا صاحب الطعام ؟ " قال : أصابته السماء يا رسول الله قال : " أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس؟ من غش فليس مني . رواه مسلم . (باب المنہی عنہا من البیوع الفصل الاول ج:2 ص:144 ط: المکتب الاسلامی۔بیروت)۔
وفي السنن لأبي داؤد: عن أبي ھریرۃ رضي اللہ عنہ قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ’’اللہم إني أعوذبک من الجوع فإنہ بئس الضجیع، وأعوذبک من الخیانۃ فإنہ بئست البطانۃ‘‘. (کتاب الصلاۃ باب في الاستعاذۃ رقم الحدیث:1547، دارالسلام)۔
و فی مرقاۃ المفاتح: وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «آية المنافق ثلاث» ". زاد مسلم: " «وإن صام وصلى وزعم أنه مسلم» ثم اتفقا: ( «إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان»فالكذب الإخبار على خلاف الواقع، وحق الأمانة أن تؤدى إلى أهلها، فالخيانة مخالفة (باب الکبائروعلامات المنافق ج:1 ص:26 ط:دارالکفر)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 98259کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات