السلام علیکم
ایک بیٹا اپنے والد صاحب کے ساتھ ایک شاپ پے کام کر رہا ہے، شاپ والد صاحب نے لگائی ،اب اس بیٹے کے لئے روزانہ کا ایک ہزار روپیہ والد صاحب کی اجازت کے بغیر لینا صحیح ہوگا یا نہیں؟ کیونکہ وہ کوئی تنخواہ بھی نہیں لے رہا اور اس کے ذمے کچھ قرضہ ہے جو اس نے ادا بھی کرنا ہے۔ برائے کرم رہنمائی فرمائیں
صورتِ مسئولہ میں مذکور بیٹے کے لئے والد کی اجازت کے بغیر دکان سے ایک ہزار روپے یا کم وبیش لینا شرعاً جائز نہیں۔ اگر باپ کے ساتھ دکان پر وہ کام کر رہا ہے تو یہ اس کی طرف سے اعانت ہے جس کا شرعاً بھی حکم ہے۔ ہاں اگر مذکور بیٹے کو پیسوں کی ضرورت ہو تو والد صاحب سے اجازت لے کر اٹھائے یا والد صاحب سے اپنے لئے یومیہ یا ماہانہ اجرت مقرر کروائے اس کے بغیر اس کے لئے پیسے حلال نہیں ہوں گے جس سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تبارک و تعالی: وَ وَصَّیْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًا وَإِنْ جَاہَدَاکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَاتُطِعْہُمَا الآیۃ
و فی درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام: (المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار. (المادة 97) :لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي.(بلا سبب شرعي) لأنه بالأسباب الشرعية كالبيع، والإجارة، والهبة، والكفالة، والحوالة يحق أخذ مال الغير. الخ(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية ج:1 ص:98 ط: دار الجیل)۔