کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک جگہ کو اس کے مالک کی اجازت کے بغیر غصب کرکے اس پر کوئی عبادت گاہ تعمیر کرنا کیسا ہے ؟یا کوئی بھی رفاہی ادارہ بنانا کیسا ہے؟ اور اگر ایسی جگہ پر تعمیر بھی ہوچکی ہوتو اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟اور پھر اس مسجد کی عبادت کا شرعی حکم کیا ہے؟اور اس رفاہی ادارے میں عوامی خدمات کا کیا حکم ہے؟اس کی شرعی وضاحت مطلوب ہے۔
واضح ہو کہ کسی شخص کی زمین پر ناجائز قبضہ کرکےاس پر مسجد، مدرسہ یا کوئی رفاہی ادارہ قائم کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے،جس پر بہت سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذااگرکسی کی زمین پر ناجائز قبضہ کرکے اس پر مسجد بنادی گئی ہو،یا کوئی رفاہی ادارہ بنا دیا گیا ہوتو ایسی صورت میں غاصبین پر لازم ہےکہ وہ اپنے اس گناہ پر بصدق دل توبہ واستغفارکریں،اورتعمیر وغیرہ ہٹا کرزمین اصل مالک کے حوالہ کردیں، تاہم اگر مالک زمین کی قیمت لینے پر راضی ہوجائے ،یا وہ بخوشی زمین وقف کردے ،تو ایسی صورت میں تعمیر برقرار رکھی جاسکتی ہے، ورنہ بصورت دیگر اس زمین پر نماز وغیرہ کی ادائیگی سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی مسند لاحمد ابن حنبل:حدثنى أبى عن سعيد بن زيد بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ابن نمير سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من أخذ شبرا من الارض ظلما طوقه يوم القيامةإلى سبع أرضين قال ابن نمير من سبع أرضين ".(مسند العشرۃ المبشرۃ،مسند سعید بن زید، ج:1، ص:381، ط: دار صادر بيروت)۔
وفی صحيح البخاري: عن سالم عن أبيه رضي الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم من أخذ من الأرض شيئا بغير حقه خسف به يوم القيامة إلى سبع أرضين (باب إثم من ظلم شيئا من الأرض/ج:1:ص:130،ط: الناشر : دار طوق النجاة)۔
وفی رد المحتار:(قوله: وشرطه شرط سائر التبرعات) أفاد أن الواقف لا بد أن يكون مالكه وقت الوقف ملكا باتا ولو بسبب فاسد اھ (کتاب الوقف، ج:4، ص:340،ط: الناشر: دار الفكر-بيروت)۔
وفیہ ایضاً:"حتى لو وقف الغاصب المغصوب لم يصح، وإن ملكه بعد بشراء أو صلح، ولو أجاز المالك وقف فضولي جاز اھ (کتاب الوقف، ج:4، ص:341،ط: الناشر: دار الفكر-بيروت)۔
وفیہ ایضاً:"وفي الواقعات: بنى مسجدًا على سور المدينة لاينبغي أن يصلي فيه؛ لأنه من حق العامة فلم يخلص لله تعالى كالمبني في أرض مغصوبة اھ (کتاب الوقف، ج:4، ص:381،ط: الناشر: دار الفكر-بيروت)۔
وفی رد المحتار:قلت : وہو کذٰلک، فإن شرط الوقف التأبید۔ والأرض إذا کانت ملکًا لغیرہ، فللمالک استردادہا، وأمرہ بنقض البناء۔ وکذا لو کانت ملکًا لہ؛ فإنّ لورثتہ بعدہ ذٰلک، فلا یکون الوقف مؤبدًا اھ( باب:مطلب في استبدال الوقف وشروطه]ج:4، ص:386،ط: الناشر: دار الفكر-بيروت)۔
وفی الفتاوى الهندية:"الصلاة في أرض مغصوبة جائزة، و لكن يعاقب بظلمه فما كان بينه وبين الله تعالى يثاب وما كان بينه وبين العباد يعاقب اھ.( الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لا يكره ، ج:1، ص:109، ط:دارالفکر)۔
وفی الہداية: وعلى الغاصب رد العين المغصوبة معناه ما دام قائما لقوله عليه الصلاة والسلام على اليد ما أخذت حتى ترد وقال عليه الصلاة والسلام لايحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده عليه ولأن اليد حق مقصود وقد فوتها عليه فيجب إعادتها بالرد إليه وهو الموجب الأصلي على ما قالوا ورد القيمة مخلص خلفا لأنه قاصر إذ الكمال في رد العين والمالية وقيل الموجب الأصلي القيمة ورد العين مخلص ويظهر ذلك في بعض الأحكام اھ (كتاب الغصب:ج:1/ص:109،ط: الناشر المكتبة الإسلامية)۔