گناہ و ناجائز

والد کی اجازت کے بغیر والدہ اور بیٹے کا بہن کا ولی بن کر نکاح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
98526
| تاریخ :
2026-08-17
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

والد کی اجازت کے بغیر والدہ اور بیٹے کا بہن کا ولی بن کر نکاح کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
1۔ میری بیٹی جس کی عمر تقریبا تیرا سال ہے ، اور میری موجودگی میں میری بیوی میری اجازت و رضامندی کے بغیر میری بیٹی کا رشتہ اپنے بھتیجے کو دے رہی ہے جبکہ میرے ان سے تعلقات خراب ہیں ۔ میں بالکل بھی ان کورشتہ نہیں دینا چاہتا ۔ تو کیا میری موجودگی میں میری بیوی اور میرا بیٹا ، میری بیٹی کا ولی یا وکیل بن کر اس کا نکاح کراسکتے ہیں، جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
2۔میری بیوی میری اجازت کے بغیر مائیکے بیٹھی ہوئی ہے ، میں گھر لانا چاہتا ہوں ، وہ نہیں آتی ۔ تو ایسی صورت میں وہ نان نفقہ کی حقدار ہے کہ نہیں ۔ دوسری بات ایسی صورت میں بچوں پر کس کا حق ہے ۔ کس کے پاس رہیں گے ، سب سے چھوٹی بیٹی بارا سال کی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ والد کی موجودگی میں نابالغ بچی کے نکاح کا اختیار کسی کو حاصل نہیں ، اور اگر کوئی اور اس کا نکا ح کرابھی دے تو وہ نکا ح والد کی اجازت پر موقوف رہے گا، لہذا مذکور صورت میں یہ بچی اگر بالغہ نہ ہو ، تو والدہ یا بھائی کی جانب سے کرایا گیا بچی کا نکاح شرعا سائل یعنی والد کی اجازت پر موقوف رہے گا ، اگر والد اجازت نہ دے تو یہ نکاح درست ہی نہ ہوگا، البتہ اگر بچی عاقلہ بالغہ ہو ، اور والدہ کی جانب سے کئے گئے اس نکاح میں اس بچی کی ذاتی رضامندی بھی شامل ہو، تو یہ نکاح اگرچہ درست منعقد ہوجائے گا ، مگر ایسا کرنا پسندیدہ نہیں ۔
جبکہ سائل کی بیوی اگر واقعۃً سائل کی اجازت کے بغیر اور بلا وجہِ شرعی کے اپنے میکے میں بیٹھی ہو، اور سائل کے بار بار بلانے پر بھی نہ آرہی ہو اورصلح کے لیے بھی راضی نہ ہو ، تو ایسی صورت میں وہ ناشزہ شمار ہوگی اور سائل پر اس کا نان نفقہ لازم نہ ہوگا ،اور نفقہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے سائل گناہ گار بھی نہ ہوگا ، جبکہ میاں بیوی کی جدائی کی صورت میں جو بچے بلوغت کی حد کو پہنچ چکے ہوں ، تو انھیں اختیار ہیں کہ وہ ماں باپ میں سے جس کےپاس رہائش اختیار کرنا چاہیں ، کرسکتے ہیں ، البتہ سائل کی جو بیٹی سب سے چھوٹی بارہ سال کی ہے ، اگر وہ اب تک بلوغت کی حد کو نہ پہنچی ہو ، تو اپنے فیصلہ میں خود مختار نہ ہونے اور والدہ کے حق حضانت ختم ہونے کی وجہ سے سائل اگر اسے اپنی تحویل میں لینا چاہے، لے سکتا ہے، نیز اس سلسلہ میں والدہ کا رکاوٹ بننا بھی درست نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی المبسوط للسرخسی: (قال): ولا يجوز لغير الولي تزويج الصغير والصغيرة لقوله صلى الله عليه وسلم «لا نكاح إلا بولي اھ (باب نکاح الصغیر و الصغیرۃ ج:4 ص: 222 ناشر: مطبعة السعادة – مصر)
وفی فتح باب العنایۃ بشرح النقایۃ: (والوَليُّ العَصَبَةُ) أي بنفسه، وهو: كلُّ ذَكَر يَتَّصِل بلا تَوَسُّطِ أُنْثَى. (عَلَى تَرْتِيبِهِم) أي في الإرث، والحَجْبِ. فالأقرب يَحْجُبُ الأبعدَ. وتُقَدَّمُ عصبةُ النَّسَب، وأَولاهم الابنُ ثم ابن ابنه، وإن سَفَل، ثم الأب، ثم الجَدّ، وهو أبُ الأبِ، ثم الأخ لأبوين، ثم لأبٍ، ثم بَنُو الإخوة كذلك، ثم الأعمام كذلك، ثم بَنُوهم كذلك، ثم أعمام الأب كذلك.وفي شرح الطحاوي: أولى الأولياء الأبُ والجدُّ وإن علا اھ ( فصل فی الاولیاء و الاکفاء ج:2 ص:
وفی الدر المختار: (وللولي الأبعد التزويج بغيبة الأقرب) فلو زوج الأبعد حال قيام الأقرب توقف على إجازته اھ (باب الولی ج:3 ص: 81 ناشر: حلبی)
وفیہ ایضآ: (وهو) أي الولي (شرط) صحة (نكاح صغير ومجنون ورقيق) لا مكلفة (فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا(وله) أي للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم كابن عم في الأصح خانية، وخرج ذوو الأرحام والأم والقاضي (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد وينبغي إلحاق الحبل الظاهر به (ويفتى) في غير الكفء(بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان) اھ ( باب الولی ج:3 ص:57 ناشر: حلبی)۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ: والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين.الصغيرة إذا لم تكن مشتهاة ولها زوج لا يسقط حق الأم في حضانتها ما دامت لا تصلح للرجال كذا في القنية.وبعدما استغنى الغلام وبلغت الجارية فالعصبة أولى يقدم الأقرب فالأقرب كذا في فتاوى قاضي خان. ويمسكه هؤلاء إن كان غلاما إلى أن يدرك فبعد ذلك ينظر إن كان قد اجتمع رأيه وهو مأمون على نفسه يخلى سبيله فيذهب حيث شاء، وإن كان غير مأمون على نفسه فالأب يضمه إلى نفسه ويوليه ولا نفقة عليه إلا إذا تطوع كذا في شرح الطحاوي(الی قولہ) إذا دخلت في السن واجتمع لها رأيها وعفتها فليس للأولياء الضم ولها أن تنزل حيث أحبت لا يتخوف عليها كذا في المحيط اھ (باب الحضانۃ ج:1 ص: 543 ناشر: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 98526کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات