گناہ و ناجائز

پوتے کےلئے دادا کی وصیت کا حکم

فتوی نمبر :
98965
| تاریخ :
2026-09-01
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

پوتے کےلئے دادا کی وصیت کا حکم

تمام حالات میں اللہ رب العالمین کا لاکھ لاکھ شکر اور احسانِ عظیم ہے۔جناب عالی! مؤدبانہ گزارش ہے کہ ہم چھ بھائی اور ایک بہن تھے،والد صاحب کی زندگی میں ان کا انتقال ہوگیا تھا،وہ اپنی سالی کے ساتھ بلدیہ نمبر 12 میں کسی آستانہ میں اپنے بچوں کو دم اور تعویذ کےلئے گئے تھے،نامعلوم افراد کی فائرنگ سے وہاں موجود تقریباً 12، سے 16 افراد جن میں ایک ہمارا بھائی اور ان کی 4یا 5 سالہ بیٹی زینب بی بی وہ بھی اپنے والد کے ساتھ فائرنگ میں فوت ہوگئی تھی،2014 میں بھائی کے سسرال والوں نے اور ان کی بیوی نے زبردستی والد صاحب سے یہ تقاضا کیا کہ آپ بھی بزرگ ہوں،انسان کا کوئی پتہ نہیں،اس لئے آپ ہمیں لکھ کر دیدیں کہ اگر آپ کا انتقال ہوگیا تو آپ کے بعد اس کے بیٹے کا کیا حساب کتاب ہوگا؟پھر والد صاحب نے مرحوم کے بیٹے کےلئے خرچہ فکس کردیا:جب تک 18 سال کا ہوگا،ان کو 1500 روپے خرچہ دیا جائےگا،بعد میں ہم بھائیوں نے بڑھا کر 2500 خرچہ کردیا،اور عید وغیرہ پر بھی تعاون اور عیدی وغیرہ دی جاتی ہے،والد صاحب کا انتقال 2016 میں ہوا ہے،اور ان کے انتقال کے 2 سے 3 سال بعد ہم سب کے آپس میں حصے ہوگئے ہیں،گزارش کی جاتی ہے اور معلومات لینی ہیں کہ والد صاحب کے پوتے یعنی مرحوم کا ایک ہی بیٹا ہے،اس کا کتنا حصہ دینا ہوگا؟ اور جو رقم اب تک تقریباً تین لاکھ سے ساڑھے تین لاکھ ان کو ہم خرچہ کی مد میں ادا کرچکے ہیں،وہ رقم حصہ میں سے نکال کر حصہ دیا جائے گا،یا یہ رقم بھی حصہ میں شامل ہے؟ہم سب بھی مزدور ہیں،اور جو بھائی فوت ہوگیا ہے وہ بھی ہماری طرح مزدور ہی تھا،اسی سال یعنی ایک ماہ بعد اس بچے کا شناختی بن کر آجائےگا،پھر بھائی کے سسرال والے کورٹ سے رابطہ کریں گے،کورٹ کے ذریعہ بچے کا حصہ لیں گے،اور ہم بھی الحمد للہ والد صاحب کے کہنے پر اس بچہ کا حصہ دیں گے۔
دین اور شریعت کی روشنی میں آپ صاحبان جو بہتر اور مناسب فیصلہ کریں گے فتوی سے وہ فتوی جرگہ اور بڑے لوگوں اور کورٹ میں بھی دکھا سکتے ہیں اگر ضرورت پڑی تو ۔
پوتے کا کیا اور کیا حصہ بنتاہے؟ ہمیں واضح کرکے آپ صاحبان بتادیجئے۔
والد صاحب نے یہ وصیت کی تھی کہ میرے پوتے عبد الباسط کا اتنا حصہ دینا ہے،جتنا میرے بیٹوں کا حصہ ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں پوتا چونکہ بیٹوں کی موجودگی میں دادا مرحوم کا وارث نہیں بنتا،اس لئے دادا مرحوم کی وصیت اپنے پوتے کے بارے میں شرعاً درست تھی،چنانچہ ورثاء پر کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد بقیہ مال کے ایک تہائی(1/3)کی حد تک وصیت پوری کرنا لازم ہے۔جس کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ کُل مال کے تیرہ(13) حصے کرکے دو(2) حصے اس پوتے کو دیئے جائیں،اس کے بعد بقیہ مال ورثاء میں حسبِ حصص شرعیہ تقسیم کیا جائےگا،جہاں تک چچاؤں کی طرف سے خرچہ کی مد میں رقم دی گئی ہے تو چونکہ رقم دیتے وقت وصیت سے منہا کرنے یا قرض کی صراحت نہیں کی گئی تھی،لہٰذا مذکور چچا اپنے بھتیجے سے اس رقم کا مطالبہ نہیں کرسکتے،بلکہ یہ ان کی طرف سے تبرع شمار ہوگا۔البتہ اگر وہ بالغ ہوچکا ہو تو اس کا نان نفقہ شرعاً دادا یا چچاؤں پر لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

في القران الكريم:
وَعَلَى ٱلۡوَارِثِ مِثۡلُ ذَٰلِكَۗ [البقرة: 233]
«تفسير الطبري» ط التربية والتراث):
وقالوا: معنى الآية: وعلى وارث الصبي إذا كان [أبوه] ميتا، مثل الذي كان على أبيه في حياته» (5/ 54)
«وفي حاشية ابن عابدين »:
«أنفق الوصي من مال نفسه على الصبي وللصبي مال غائب فهو متطوع في الإنفاق استحسانا إلا أن يشهد أنه قرض أو أنه يرجع به عليه لأن قول الوصي لا يقبل في الرجوع فيشهد لذلك، وفي العتابية ويكفيه النية فيما بينه وبين الله تعالى. وفي المحيط عن محمد إذا نوى الأب الرجوع ونقد الثمن على هذه النية وسعه الرجوع فيما بينه وبين الله تعالى، أما في القضاء فلا يرجع ما لم يشهد ومثله في المنتقى.» (6/ 717)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عرفان اللہ حبیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 98965کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات