گناہ و ناجائز

حمل کے بیمار ہونے کی وجہ سے پانچ ماہ کے حمل کو ضائع کرنا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
99150
| تاریخ :
2026-09-07
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

حمل کے بیمار ہونے کی وجہ سے پانچ ماہ کے حمل کو ضائع کرنا جائز ہے؟

میری بیوی کو حمل ٹھہرے ہوئے پانچ ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ ہمیں حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ بچے کی ریڑھ کی ہڈی نہیں بنی۔ یہ بات تین مختلف ہسپتالوں میں الٹراساؤنڈ کروانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسے بچے عموماً مفلوج ہوتے ہیں، ان کے دماغ میں پانی بھر جاتا ہے، پیشاب اور پاخانے کے مسائل بھی ہوتے ہیں اور جسم کا نچلا نصف حصہ کام نہیں کرتا۔ ایسی صورتِ حال میں کیا ہم اسقاطِ حمل کروا سکتے ہیں یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ حمل میں روح پڑنے (جس کی مدت عموماً چار ماہ ہوتی ہے ) سے پہلے اگر کوئی شرعی عذر موجود ہو اور اس عذر کی تصدیق کسی ماہر، دیندار اور قابل اعتماد ڈاکٹر سے بھی ہوجائے تو اسقاط حمل کی گنجائش ہوتی ہے۔ لیکن حمل میں روح پڑنے کے بعد اسقاط حمل کی اجازت نہیں رہتی،بلکہ اس صورت میں حمل کو ساقط کرنا قتل النفس کے زمرے میں آنے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں ۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں چونکہ سائلہ کی بیوی کا حمل پانچ ماہ کا ہوچکا ہے، اس لیے مذکورہ خدشے کی بنا پر بھی اس مرحلے پر اسقاط حمل کروانا شرعاً جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الشامیۃ:(قوله: وقالوا إلخ) قال في النهر: ‌بقي ‌هل ‌يباح ‌الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اھ(کتاب النکاح ج3ص: 176، ط:ایچ ایم سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 99150کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات